لوک سبھا انتخابات، بی جے پی کی شاندار فتح، کانگریس کو بدترین شکست
سونیا گاندھی، راہول گاندھی، سشما سوراج، ہیما مالنی کامیاب، این ڈی اے کو تقریباً 330 نشستیں
نئی دہلی /16 مئی (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی وزارت عظمی کے امیدوار نریندر مودی نے تاریخ کو از سرنو رقم کرتے ہوئے مرکز میں آج ’’سہ گنا سنچری‘‘ کے ساتھ اقتدار حاصل کرلیا۔ لوک سبھا میں این ڈی اے کو تقریباً 330 نشستوں پرکامیابی مل رہی ہے اور بی جے پی کو اپنے بل پر پہلی مرتبہ حکومت بنانے کے لئے قطعی اکثریت ملی ہے۔ ان انتخابات میں کانگریس کو اب تک سب سے بدترین شکست ہوئی۔ مخالف کانگریس کی شدید لہر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 63 سالہ چیف منسٹر گجرات نریندر مودی نے بی جے پی کو شاندار کامیابی سے ہمکنار کروایا ہے۔ اس سے قبل ہندوستان میں بی جے پی کے حق میں اتنی بڑی تائید حاصل نہیں ہوئی تھی۔ این ڈی اے نے جو بی جے پی اور 24 چھوٹی پارٹیوں پر مشتمل ہے، اپنی توقعات سے زیادہ کامیابی حاصل کی ہے۔ بی جے پی کو 543 رکنی لوک سبھا میں 282 نشستوں پر کامیابی ملی ہے۔ گزشتہ 30 سال میں بی جے پی پہلی پارٹی بن گئی ہے، جس کو اپنے بل پر حکومت بنانے کے لئے قطعی اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ اس سے قبل 1984ء میں راجیو گاندھی نے زبردست کامیابی حاصل کرتے ہوئے لوک سبھا میں 400 نشستیں حاصل کی تھیں۔
نریندر مودی نے اپنی فتح کی خوشی میں خطاب کرتے ہوئے عہد کیا کہ وہ ہر ایک کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ مودی کل نئی دہلی پہنچیں گے اور توقع ہے کہ وہ ہندوستان کے 16 ویں وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف لیں گے۔ آئندہ ہفتہ ان کی حلیف پارٹیوں کے بعض قائدین کو مودی کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔ بلاشبہ کابینہ میں بی جے پی قائدین کا ہی غلبہ ہوگا۔ یوپی، بہار، راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، ہریانہ، دہلی، جھار کھنڈ، ہماچل پردیش اور اترا کھنڈ پر مشتمل ہندی ریاستوں میں زبردست اور شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے بی جے پی کو یہاں کی 225 نشستوں کے منجملہ 190 پر کامیابی ملی ہے۔