مودی حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر لوک سبھا میں کل مباحث و رائے دہی

نئی دہلی ، 18 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا نریندر مودی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی سرپرستی والی تحریک عدم اعتماد پر جمعہ کو مباحث منعقد کرے گا۔ یہ تحریک ٹی ڈی پی اور اپوزیشن پارٹیوں نے پیش کی ہے جبکہ اسپیکر سمترا مہاجن نے نوٹس کو قبول کرلیا ہے۔ پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے پہلے دن لنچ وقفے کے بعد جب ایوان دوبارہ مجتمع ہوا تو سمترا مہاجن نے اعلان کیا کہ ایوان (تحریک پر) مباحث جمعہ 20 جولائی کو منعقد کرے گا۔ مباحث پورے دن منعقد کئے جائیں گے جس کے بعد اس پر ووٹنگ ہوگی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اُس روز کوئی وقفہ سوالات نہیں ہوگا اور ایوان میں کوئی دیگر کام بھی نہیں کیا جائے گا، سوائے اس کے کہ تحریک عدم اعتماد پر مباحث کئے جائیں۔ قبل ازیں اسپیکر نے اعلان کیا تھا کہ وہ مباحث کیلئے تاریخ کو دو تین یوم میں اعلان کریں گی۔ وقفہ صفر کے دوران انھوں نے ٹی ڈی پی، کانگریس اور این سی پی و دیگر کے تمام ارکان کا نام لیا جنھوں نے یکساں نوعیت کے تحریک عدم اعتماد نوٹسیں پیش کئے تھے اور کہا کہ ٹی ڈی پی کے کسینینی سرینواس اپنی تحریک پیش کریں گے کیونکہ اُن کی پارٹی نے سب سے پہلے یہ مسئلہ اٹھایا تھا۔ سمترا مہاجن نے بجٹ سیشن کے دوران اسی طرح کی تحریک پر نوٹسوں کو قبول نہیں کیا تھا جبکہ وہ سیشن ٹی ڈی پی، ٹی آر ایس اور بعض اپوزیشن پارٹیوں کے اس مطالبے کی وجہ سے شوروغل کی نذر ہوگیاکہ حکومت اس تحریک پر اتفاق کرے۔ لیکن اس تحریک کو اسپیکر نے اس بنیاد پر مسترد کردیا تھا کہ ایوان میں نظم بحال نہیں کیونکہ مختلف مسائل پر اپوزیشن ارکان کی جانب سے ایوان کے وسط میں مسلسل احتجاج ہوتے رہے ۔ ٹی ڈی پی نے آندھرا پردیش کو خصوصی پیاکیج حکومت کی طرف سے نہ دیئے جانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مارچ میں برسراقتدار این ڈی اے اتحاد سے علحدگی اختیار کرلی تھی۔ ٹی ڈی پی کے رکن نے وقفہ صفر کے دوران اپنی تحریک پیش کی جسے اسپیکر نے قبول کرلیا۔ سمترا مہاجن نے قبل ازیں دن میں تحریک عدم اعتماد کی نوٹس کو قبول کرتے ہوئے کہ زائد از 50 ارکان اس تحریک کی حمایت کررہے ہیں، لہٰذا تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ جب کانگریس لیڈر ملکارجن کھرگے نے مطالبہ کیا کہ سب سے بڑی (اپوزیشن) پارٹی کو یہ تحریک پیش کرنے کی اجازت دی جائے، سمترا مہاجن نے کہا کہ قواعد کے مطابق جو پارٹی سب سے پہلے تحریک کا مسئلہ اٹھاتی ہے اسے ہی تحریک پیش کرنے کا موقع حاصل ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بڑی پارٹی ، چھوٹی پارٹی کا سوال نہیں ہے۔ وہ جن کو تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا موقع ملتا ہے، میں نے تمام قواعد ملاحظہ کئے ہیں۔ جس شخص نے پہلے تحریک پیش کی، اُسے سب سے پہلے پکارا جاتا ہے۔ جب کھرگے نے اپنے مطالبے پر زور دیا کہ وہ تمام ارکان جنھوں نے یہ تحریک لائی، ان کو اسے پیش کرنے کی اجازت دینا چاہئے، برہم سمترا نے کہا، ’’آپ ریکارڈ کا جائزہ لیجئے … میں نے قاعدے کے مطابق (ہی) کام کیا ہے۔‘‘ وزیر پارلیمانی امور اننت کمار نے کہا کہ حکومت تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے تیار ہے جو کئی پارٹیوں نے پیش کی ہے۔ ’’سارے ملک کو وزیراعظم نریندر مودی پر اعتماد ہے۔‘‘ اپوزیشن پارٹیوں نے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد مختلف مسائل پرپیش کی ہے جیسے آندھرا پردیش کو خصوصی درجہ دیا جانا، ہجومی تشدد کے واقعات، خواتین اور دلتوں کے خلاف مظالم اور درج فہرست طبقات کیلئے مخصوص قانون کو نرم بنانا، وغیرہ۔