نوی ممبئی 23 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) نریندر مودی پر تنگ نظر ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے این سی پی سربراہ شردپوار نے کہاکہ بی جے پی وزارت عظمیٰ امیدوار کی زیرقیادت گجرات انتظامیہ نے گزشتہ سال مہاراشٹرا میں خشک سالی سے متاثرین کو راحت فراہم کرنے پر اپنے ہی عوام کے خلاف ایف آئی آر درج کئے۔ مرکزی وزیر زراعت نے بتایا کہ گزشتہ سال خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں گجرات کے عوام نے مویشیوں کو چارہ فراہم کرنے میں مہاراشٹرا کی مدد کی تھی۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت اس مدد پر ضلع مہسنا کے کئی افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کیا۔ اُنھوں نے بتایا کہ کرپشن کے الزاماتپر ایف آئی آر درج کئے گئے اور کہا گیا کہ یہ چارہ ایسے وقت دیگر مقامات کو منتقل کیا گیا جب گجرات خود خشک سالی سے دوچار تھا۔
شردپوار نے کہاکہ جو لوگ ملک چلانے کا خواب دیکھ رہے ہیں وہ ساری ریاستوں کو ایک ہی نظر سے نہیں دیکھتے۔ اس طرح کی تنگ نظری اور محدود ذہنیت رکھنے والے آخر کس طرح ملک چلاسکیں گے؟ شردپوار نے مودی کا نام لئے بغیر یہ بات کہی۔ اُنھوں نے بتایا کہ گزشتہ سال خشک سالی کے دوران گجرات کے عوام نے مہاراشٹرا انتظامیہ کی جانب سے قائم کردہ خصوصی مویشی پناہ گاہوں کے لئے چارہ کی مدد کی تھی۔ مہسنا نارتھ پولیس اسٹیشن میں ڈسٹرکٹ رجسٹرار نیلندر کمار دوشی نے یہ ایف آئی آر درج کرائی۔ اس دوران شردپوار نے دعویٰ کیاکہ نریندر مودی کو ملک کی تاریخ کا بھی علم نہیں۔ اُنھوں نے بالخصوص گزشتہ ہفتہ مودی کے وردھا میں خطاب کا حوالہ دیا جہاں نریندر مودی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ودربھا ٹاؤن سے ’’چلے جاؤ‘‘ مہم شروع ہونی تھی جو سیوا گرام آشرم کے لئے بھی مشہور ہے۔
شردپوار نے کہا حقیقت تو یہ ہے کہ یہ تاریخی اعلان اگست 1942 ء میں ممبئی میں واقع اگست کرانتی میدان سے کیا گیا تھا اور اس کی وجہ سے گاندھی اور نہرو دونوں کو جیل جانا پڑا تھا۔ شردپوار نے کہاکہ ہمارے پاس وزارت عظمیٰ کا ایک ایسا امیدوار بھی ہے جو تاریخ سے واقف نہیں۔ شردپوار جنھوں نے اس بار انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے کہاکہ ان کے طویل سیاسی کرئیر میں کبھی ایسی مثال دیکھنے میں نہیں آئی کہ انتخابات قریب آتے ہی کوئی وزارت عظمیٰ امیدوار کا اعلان کیا جارہا ہو جیسا کہ بی جے پی کررہی ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ روایت یہی رہی ہے کہ منتخبہ ارکان پارلیمنٹ خود اپنے میں سے کسی ایک کو وزیراعظم منتخب کرتے ہیں۔