مودی اور چھوٹے مودی کو سبق سکھانے عوام تیار

2019ء انتخابات
متعدد مرتبہ بی جے پی کا ساتھ دیا گیا۔ عوام کی پریشانی میں اضافہ : اتم کمار ریڈی

حیدرآباد ۔ 21 جولائی (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے کہا کہ کل پارلیمنٹ میں پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کے دوران ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان موجود خفیہ اتحاد آشکار ہوگیا۔ آئندہ 2019ء کے عام انتخابات میں عوام چھوٹا مودی اور بڑے مودی کے خلاف ووٹ دیں گے۔ مرکز میں بی جے پی اور ریاست میں ٹی آر ایس کو اقتدار سے بیدخل کرتے ہوئے انہیں سبق سکھائیں گے۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات بتائی۔ اس موقع پر نائب صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی عابد رسول خان، جنرل سکریٹری ونود ریڈی اور صدر تلنگانہ پردیش کانگریس انیل کمار یادو کے علاوہ دوسرے موجود تھے۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ گذشتہ 4 سال سے نریندر مودی اور امیت شاہ مذہبی نفرت پھیلاتے ہوئے سیاست کو زہرآلودہ کررہے ہیں لیکن صدر کانگریس راہول گاندھی نے تحریک عدم اعتماد مباحث میں حصہ لیتے ہوئے ملک کی صورتحال اور سماج کے ہر طبقہ کے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے من کی بات نہیں کی بلکہ عوام کے دلوں کی بات کی ہے۔ کانگریس کے بنیادی اصولوں پر گامزن ہوتے ہوئے پیار، محبت، اخوت، بھائی چارگی کا پیغام دیتے ہوئے نفرت پر محبت کو حاوی کرنے کیلئے سب کچھ بھول کر وزیراعظم نریندر مودی کو گلے بھی لگا لیا۔ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں بھلے ہی کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن کم از کم یہ اعتراف تو کیا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کانگریس نے تشکیل دیا ہے۔ اس سے ملک اور ریاست کے عوام کو دو پیغام ملے ہیں۔ پہلا یہ کہ بی جے پی نے تلنگانہ عوام کے جذبات کا احترام نہیں کیا دوسرا یہ کہ تلنگانہ کی تشکیل میں چیف منسٹر کے سی آر اور ٹی آر ایس کا کوئی رول نہیں ہے۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ سونیا گاندھی نے 6 دہوں سے جاری تلنگانہ تحریک پر ہمدردانہ غور کیا۔ نوجوانوں کی خودکشی، طلبہ اور بیروزگار نوجوانوں کے جذبات و احساسات کا احترام کرتے ہوئے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دیا ہے جس پر کانگریس کو فخر ہے مگر افسوس کی بات یہ ہیکہ پارلیمنٹ میں ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ بیٹھ کر وزیراعظم کی جانب سے تلنگانہ کے عوام کی جو توہین کی جارہی تھی اس کا تماشہ دیکھا ہے۔ کسی بھی مسئلہ پر جب بھی اسمبلی اور پارلیمنٹ میں ووٹنگ کی نوبت آجاتی ہے تو ایوانوں کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی بل منظور کرتے ہوئے کانگریس نے پارلیمنٹ کے جو دروازے بند کئے ہیں وہ پارلیمانی قواعد کا ایک حصہ مگر وزیراعظم کی جانب سے اس کو جرم کی طرح پیش کیا جارہا ہے۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے چیف منسٹر کے سی آر کو مودی اور بی جے پی کا ایجنٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدرجمہوریہ، نائب صدرجمہوریہ، نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے معاملے میں ٹی آر ایس نے بی جے پی کی غیرمشروط تائید کی۔ نوٹ بندی کے مسئلہ پر اسمبلی میں چیف منسٹر نے کانگریس کو وزیراعظم کے خلاف تنقید نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ تلنگانہ میں وزیراعظم کے دورہ کے موقع پر چیف منسٹر نے تقسیم ریاست کے وعدوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کرنے کے بجائے صرف نریندر مودی کے دل میں اپنے لئے محبت مانگ لی۔ تحریک عدم اعتماد مباحث کے دوران پڑوسی ریاست آندھراپردیش کے تلگودیشم ارکان پارلیمنٹ نے تقسیم ریاست کے وعدوں پر مرکزی حکومت کو جھنجھوڑا ہے جبکہ ٹی آر ایس مرکز پر دباؤ بنانے اور 12 فیصد مسلم تحفظات کے مسئلہ کو اٹھانے کا موقع گنوادیا۔ بجٹ سیشن میں ٹی آر ایس نے اس مسئلہ کو اٹھایا مگر اس مرتبہ خفیہ ایجنڈے کے تحت 12 فیصد مسلم تحفظات پر کوئی بات نہ کرتے ہوئے تلنگانہ کے مسلمانوں کو مایوس کردیا جبکہ اسمبلی میں خود چیف منسٹر نے کہا کہ 12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے وزیراعظم سنجیدہ ہے مگر ٹی آر ایس ارکان پارلیمنٹ کی مجرمانہ خاموشی سے یہ انکشاف ہوگیا کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی میں خفیہ اتحاد ہے جس کی وجہ سے ٹی آر ایس نے ریاست کے اہم مسائل کے علاوہ مسلم تحفظات کو فراموش کردیا۔