منڈل پریشد انتخابات ملتوی کردینے کی تجویز

حیدرآباد۔/12 مارچ(سیاست نیوز) ریاستی الیکشن کمیشن نے/13 مارچ کو 3:00 بجے سہ پہر ریاستی الیکشن کمیشن میں مسلمہ اور رجسٹرڈ سیاسی پارٹیوں کا ایک اجلاس ان کے لئے محفوظ انتخابی نشان کے تعلق سے طلب کیا ہے۔ اس اجلاس میں ضلع پریشد اور منڈل پریشد کے انتخابات کو مؤخر کرنے کے مسئلہ پر سیاسی پارٹیوں کی بھی آراء حاصل کی جائے گی اور /15 مارچ کو اس خصوص میں سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کیا جائے گا۔ سکریٹری ریاستی الیکشن کمیشن مسٹر نوین متل نے آج ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ سپریم کورٹ کے عبوری احکام کی تعمیل کرتے ہوئے ریاستی الیکشن کمیشن نے /10 مارچ کو ادارہ جات مقامی ضلع پریشد و منڈل پریشد کے انتخابات کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ میں تعمیلی رپورٹ بھی پیش کردی۔

انہوں نے بتایا کہ ریاست میں بلدیہ کے انتخابی عمل کے آغاز اور آنے والے دنوں میں عام انتخابات کے تناظر میں چند سیاسی پارٹیوں نے ریاستی الیکشن کمیشن سے نمائندگی کی کہ ضلع پریشد اور منڈل پریشد انتخابات کو مؤخر کیا جائے جس سے کمیشن کے اسٹینڈنگ کونسل نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا جس پر عدالت عظمیٰ نے اس خصوص میں داخل کردہ خصوصی مرافعہ جات کی یکسوئی کرتے ہوئے تحریری حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سیاسی پارٹیوں کی آراء حاصل کرنے کے بعد ریاستی الیکشن کمیشن /15 مارچ کو عدالت عظمیٰ کو آگاہ کرے گا۔ یہ پوچھنے پر کہ آیا ریاستی الیکشن کمیشن بھی پنچایت راج اداروں کے انتخابات مؤخر کرنے کے حق میں ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ فی الوقت کچھ کہ نہیں سکتے تاوقتیکہ سیاسی پارٹیوں سے آراء حاصل نہ کرلی جائے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ سیاسی پارٹیوں سے مشاورت کے بعد ہی کمیشن، سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرے گا۔ اس خصوص میں عدالت عظمیٰ کی جانب سے جو بھی ہدایت ملی گی اس کی تعمیل کی جائے گی۔ مسٹر نوین متل نے بتایا کہ ریاست میں بلدی انتخابات کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ ریاست کے 22 اضلاع میں میونسپل کارپوریشنس اور میونسپل کونسلس کے وارڈ ممبرس کے لئے /11 مارچ تک مجموعی طور پر 731 پرچہ نامزدگیاں داخل ہوئی ہیں جن میں سیاسی پارٹیوں کی 530 امیدوار اور 201 آزاد امیدوا شامل ہیں۔ سب سے زیادہ 137 پرچہ نامزدگیاں ضلع کریم نگر اور سب سے کم 9 ضلع پرکاشم میں داخل کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کا نفاذ جاری ہے اور اس خصوص میں تنقیح اور جانچ کے کام جاری ہیں۔ انتخابی ضابطہ اخلاق پر نفاذ کے لئے ضلع واری ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ نشہ بندی و آبکاری نے /10 مارچ تک 5419 کیسس درج کئے ہیں اور 2192 افراد کو گرفتار کرتے ہوئے 97 گاڑیاں ضبط کی ہیں اور شراب کی بھی بھاری مقدار ضبط کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابات کے ضمن میں رقمی لالچ کے انسداد کا بھی کام جاری ہے اور میدک میں 49 لاکھ روپے نقد اور ضلع کرشنا میں 25 کیلو چاندی کی اشیاء ضبط کی گئی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ ہائی کورٹ کے احکام کی تعمیل میں بلدیات کے وارڈ ممبرس کے علاوہ میئرس؍صدرنشین بلدیات کے انتخابات بھی شیڈول کے مطابق انجام پائیں گے اور انتخابی نتائج بعد گنتی جاری کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال بلدی انتخابات کے نتائج روکے رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اگر عدالت سے ایسے احکام جاری ہوتے ہیں تو اس کی تعمیل کی جائے گی۔