کٹھمنڈو 26 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ممبئی حملے کی چھٹویں برسی کے دن وزیراعظم نریندر مودی نے آج سارک قائدین سے کہاکہ ہندوستان کو ضائع ہونے والی انسانی زندگیوں کے ’’غیر مختتم درد‘‘ کا احساس ہے اور 8 رکنی گروپ سے خواہش کی کہ وہ متحدہ طور پر دہشت گردی کا مقابلہ کرے۔ مودی نے ممبئی قتل عام کا حوالہ دیا جس میں 166 زندگیاں ضائع ہوئی تھیں۔ جس کے دوران انھوں نے جنوبی ایشیائی ممالک سے ربط پیدا کرکے اعلان کیاکہ بزنس ویزا برائے ہندوستان 3 تا 5 سال کی مدت کے لئے دینے کا تیقن دیا۔ علاوہ ازیں مریضوں کے لئے اور اُن کے تیماردار کے لئے جو ہندوستان میں علاج کے مقصد سے آتے ہیں، میڈیکل ویزا دینے کا اعلان کیا۔ انھوں نے کہاکہ آج ہم 2008 ء میں ممبئی کے دہشت گرد حملے کی یاد مناتے ہیں۔ ہمیں ضائع ہونے والی انسانی جانوں کا غیرمختتم درد محسوس ہوتا ہے۔ ہمیں عہد کرنا چاہئے کہ دہشت گردی اور بین قومی جرائم سے متحدہ مقابلہ کریں گے۔ سامعین میں سارک قائدین بشمول وزیراعظم پاکستان نواز شریف شامل تھے۔ وزیراعظم نے کہاکہ اچھا پڑوس دنیا بھر کی خواہش ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کی صیانت کے بارے میں اور ہمارے عوام کی زندگیوں کے بارے میں حساس رہیں تو ہم اپنی دوستی گہری کرسکتے ہیں۔ تعاون اور پیشگی استحکام کو یقینی بناسکتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ جنوبی ایشیاء کا علاقہ اُبھرتی ہوئی جمہوریتوں اور مالا مال ورثے کا علاقہ ہے۔ نوجوانوں کی بے مثال طاقت اور تبدیلی و ترقی کے لئے جستجو رکھتا ہے۔ انھوں نے کہاکہ وہ ہندوستان کے مستقبل کا خواب دیکھتے ہیں اور خواہش کرتے ہیں کہ پورا علاقہ خوشحال ہوجائے۔ وزیراعظم نے سارک قائدین کی ماہ مئی میں اُن کی حلف برداری تقریب میں شرکت کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ اُنھوں نے پوری دنیا کی نیک خواہشات کے ساتھ یہ عہدہ سنبھالا تھا لیکن اِس سے زیادہ وہ اِس بات سے متاثر ہوئے کہ اُنھیں علاقائی ممالک کے سربراہوں کی شخصی موجودگی حاصل تھی۔ بیرونی دوروں کے تجربات بیان کرتے ہوئے مودی نے کہاکہ بحرالکاہل کے وسطی علاقہ سے بحر اوقیانوس کے جنوبی ساحل تک انھوں نے یکجہتی کی اُبھرتی ہوئی خواہش دیکھی ہے۔ انھوں نے کہاکہ سرحدوں کی حد بندیاں ترقی میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ بین الاقوامی شراکت داری شرح ترقی کی رفتار تیز کردیتی ہے۔ انھوں نے کہاکہ دنیا میں کہیں بھی اجتماعی کوششوں کی جنوبی ایشیاء سے زیادہ فوری ضرورت درپیش نہیں ہے۔ کہیں بھی اتنا اعتدال پسند بڑا یا چھوٹا علاقہ موجود نہیں ہے جسے وہی چیالنجس درپیش ہوں جو ترقی کی چوٹی کانفرنس کے طویل چڑھائی کے مماثل ہوں۔ لیکن انھوں نے یقین ظاہر کیاکہ سرحدوں کے خاتمہ سے ترقی کی رفتار تیز ہوگی اور کئی تحریک دینے والی ایجادات کی کہانیاں اور اقدامات ہم تمام ممالک میں سے ہر ایک سے حاصل ہوں گی۔ انھوں نے کہاکہ ہم سب کو ایک دوسرے سے تعاون اور ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا چاہئے۔ حالانکہ سارک 30 سال قبل قائم ہوا تھا لیکن ہم اس سے پہلے ہی اس کے قیام پر غور کررہے تھے۔