نئی دہلی ،22 اگست (سیاست ڈاٹ کام)صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے آج آئی آئی ٹیز کو ’’معلومات کی قیادت‘‘ کرنے والوں سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو آج ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے جبکہ انہوں نے یہ اپیل بھی کی کہ آئی ٹی ٹیز کو تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کی تمام تر کوششوں کا اطلاق کرنا چاہئے تا کہ اچھی گورننس کے ذریعہ اعلی تعلیمی اداروں کو عالمی سطح کے بہترین تعلیمی اداروں کی مسابقت کے لئے تیار کیا جاسکے۔انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (آئی آئی ٹی) کے صدر نشینوں،بورڈ آف گورنرس اور ڈائرکٹرس کی ایک روزہ کانفرنس کا راشٹرپتی بھون میں افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے آئی آئی ٹیز کی کونسل سے اپیل کی کہ وہ ان تعلیمی اداروں میں گورننس کا وہ معیار پیدا کریں جس کی مسابقت کسی بھی عالمی تعلیمی ادارے سے کی جاسکتی ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے تعلیمی ادارے سے بہ آسانی مسابقت کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی اس تشویش کا بھی تذکرہ کیا جو وہ عصری ٹکنالوجی کو درآمد کرنے پر کئی بار ظاہر کرچکے ہیں۔
ملک میں کرنسی نوٹ چھپانے کے لئے کاغذ سے لیکر دفاعی آلات و ساز و سامان بھی دوسرے ممالک سے برآمد کئے جاتے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ ہندوستان آج بھی بعض معاملات میں دیگر ممالک پر انحصار کرتا ہے جس کا سلسلہ بند ہونا چاہئے ۔اب ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ آئی آئی ٹی میں ٹکنالوجیز کو کس طرح فروغ دیا جاسکتا ہے ۔ اس ادارے میں ایک سے بڑھ کر ایک دماغ موجود ہے جو ٹکنالوجی کے شعبہ میں ملک کی ضرورت کی تکمیل کرسکتے ہیں حالانکہ ہندوستان کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ وہ دیگر ممالک کے سٹیلائٹس کو خلاء میں چھوڑ تا ہے ۔ صدر جمہوریہ نے یہ کہا کہ اس انسٹی ٹیوٹ میں فیکلٹیز کی قلت ہے جس کی عاجلانہ یکسوئی ہونی چاہئے اطلاعات کے مطابق آئی آئی ٹی میں 10 فیصد تا 52 فیصد مخلوعہ جائیدادیں ہیں جبکہ مجموعی طور پر 6 آئی آئی ٹیز میں مخلوعہ جائیدادوں کا کل تناسب 37 فیصد ہے ۔انہوں نے کہا کہ نئی دہلی کے علاوہ ملک کے دیگر تین شہر حیدرآباد ،بنگلور اور ممبئی بھی اہمیت کے حامل ہیں یہاں آئی آئی ٹی کے متعدد ادارے کامیابی سے ہمکنار ہیںجہاں کے فارغ التحصیل آج دنیا کے کسی بھی ملک سے مسابقت کرسکتے ہیں۔