ملک پیٹ میں ایم آئی ایم کی کامیابی ایم بی ٹی کی مرہون منت ہوگی

انتخابی میدان میں محمد مظفر علی خاں کے نہ رہنے سے بھی بلعلہ کو فائدہ ، مولانا عبدالقوی کی رہائی پر زور
حیدرآباد ۔ 18 ۔ اپریل : ( پی ٹی این ) : حلقہ اسمبلی ملک پیٹ میں کانگریس اور بی جے پی کا دبدبہ رہا لیکن 2009 کے اسمبلی انتخابات میں ایم آئی ایم کے احمد بن عبداللہ بلعلہ نے 30839 ووٹ حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی تھی ۔ اس وقت امید کی جارہی تھی کہ حلقہ اسمبلی ملک پیٹ میں تلگو دیشم کو طاقتور بنانے والے محمد مظفر علی خاں کو کامیابی حاصل ہوگی ۔ فی الوقت اس اسمبلی حلقہ میں دیگر حلقوں کی طرح انتخابی مہم اپنے نقطہ عروج پر پہنچ چکی ہے ۔ مجلس بچاؤ تحریک نے ملی مفاد میں اس حلقہ سے اپنا امیدوار نہیں ٹہرایا ہے جب کہ اس حلقہ میں غیر معمولی اثر و رسوخ رکھنے والے محمد مظفر علی خاں بھی انتخابات سے دور ہیں ۔ ان حالات میں ایم آئی ایم امیدوار کے لیے راستہ بالکل صاف ہوگیا ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ حلقہ اسمبلی ملک پیٹ میں گذشتہ انتخابات میں 193598 ووٹرس تھے ۔ لیکن رائے دہی کا اوسط 52 فیصد تھا جس میں احمد بلعلہ نے 30839 ( 30.44 فیصد ) اور محمد مظفر علی علی نے 22468 ( 22.18 فیصد ) ووٹ حاصل کئے تھے ۔ اس مرتبہ کچھ نئے ووٹرس بھی اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے والے ہیں ۔ بہر حال اس حلقہ میں کیا ہورہا ہے اس بارے میں راقم الحروف نے عوام سے بات کی چنچل گوڑہ کے رہنے والے ایک نوجوان نے بتایا کہ حلقہ اسمبلی ملک پیٹ میں اگر مظفر علی خاں مقابلہ کرتے تو صورتحال مختلف ہوتی ۔ ان کے ایک اور ساتھی کا کہنا تھا کہ مجلس بچاؤ تحریک نے ایک مسلم امیدوار کی کامیابی کے لیے اچھی حکمت عملی اپنائی ہے جس کے لیے ایم آئی ایم کو ایم بی ٹی کے جذبہ ملی کی قدر کرنی چاہئے ۔ اعظم پورہ کے رہنے والے ایک سماجی جہدکار کے مطابق اس مرتبہ تلگو دیشم امیدوار نہ ہونے کے باوجود حلقہ میں پیسہ پانی کی طرح بہایا جارہا ہے ۔ ہمارے اس سوال پر کہ اگر پیسہ پانی کا طرح بہایا جارہا ہے تو آخر اسے بہانے والے کون لوگ ہیں ؟ اس سوال پر انہوں نے جو جواب دیا اس سے ان میں پائے جانے والے کسی انجانے خوف کا احساس ہوتا تھا ۔ انہوں نے پانی کی طرح رقم بہانے والوں کے نام بتانے کی بجائے یہی کہا کہ وہ لوگ کون ہیں یہ سب اچھی طرح جانتے ہیں ۔ ملک پیٹ پلٹن کے ساکن ایک اکاونٹنٹ کا کہنا تھا کہ اس حلقہ میں پولیس کبھی بھی کسی بھی نوجوان کو اٹھا لیتی ہے حد تو یہ ہے کہ حال ہی میں مولانا عبدالقوی جیسے عالم دین کو گجرات پولیس نے دہلی میں گرفتار کر کے احمد آباد کی جیل میں پہنچا دیا ۔ ان حالات میں عوام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں سے ضرور سوال کریں گے وہ مولانا عبدالقوی کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کئے ہیں ۔ کالا ڈیرہ کے ایک نوجوان کے خیال میں نوجوانوں میں بیروزگاری کا جو مسئلہ ہے اسے حل کیا جانا چاہئے ۔ بے قصور الزامات میں بار بار گرفتار کئے جانے والے نوجوانوں کے قانونی حق کے لیے اور نا انصافی کے خلاف ایک چٹان کی طرح ٹہرنا ہوگا وقتی طور پر ہزار دس ہزار روپئے ہاتھوں میں تھما دینے سے ملت کا کچھ فائدہ نہیں ۔ اکبر باغ کے رہنے والے ایک موذن صاحب کا کہنا تھا کہ حلقہ اسمبلی ملک پیٹ میں ایم آئی ایم اور بی جے پی میں مقابلہ ہے لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ یہ مقابلہ یکطرفہ ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ محمد مظفر علی خاں نے اس حلقہ میں بہت محنت کی ۔ اس مرتبہ ان کی کامیابی کے امکانات بہت روشن تھے لیکن تلگو دیشم کے اس حلقہ سے نہ ٹہرنے کے باعث ایم آئی ایم کو زبردست راحت مل گئی ہے ۔ اسی طرح ایم بی ٹی کے امیدوار نہ ٹہرانے سے متعلق غیر معمولی اقدام نے بھی احمد بلعلہ کا موقف مستحکم کیا ہے ۔ اور سارا کھیل یکطرفہ دکھائی دے رہا ہے ۔ اس کے باوجود ہر لیڈر عوام کے سامنے جوابدہ ہے ورنہ دیگر حلقوں کے امیدواروں کی طرح ان کی نیندیں بھی اڑ سکتی ہیں ۔ واضح رہے کہ ایم آئی ایم کو سال 2009 میں پہلی مرتبہ کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ اس سے قبل 1989 اور 1994 میں اس کے امیدوار شکست سے دوچار ہوئے تھے ۔ باغ جہاں آراء کے ساکن ایک تاجر کے خیال میں ٹی آر ایس کے ستیش یادو ، بی جے پی کے بی وینکٹ ریڈی اور کانگریس کے وی این ریڈی کی موجودگی کے باوجود مسلم تنظیموں بالخصوص ایم بی ٹی کے دانش مندانہ فیصلہ سے ایم آئی ایم امیدوار کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ تلگو دیشم کا مسلم کیڈر بھی احمد بلعلہ کے لیے کام کررہا ہے ۔ اس حلقہ میں سرگرم کانگریس کے ایک قائد نے اعتراف کیا کہ چادر گھاٹ کٹل گوڑہ ، عثمان پورہ ، باقر باغ ، سلیم نگر ، اعظم پورہ ، فرحت نگر ، کالا ڈیرا ، ملک پیٹ پلٹن ، چنچل گوڑہ ، اکبر باغ ، آندھرا کالونی ، آسمان گڑھ ، گڈی انارم ، باغ جہاں آراء ، ایس بی ایچ کالونی ، سعید آباد ، چھاونی ناد علی بیگ ، سعید آباد کالونی ، قدیم ملک پیٹ ، موسیٰ رام باغ جیسے علاقوں میں کانگریس کا اثر نہیں کے برابر ہے ۔ ایسے میں بلعلہ کی کامیابی کے پورے امکانات دکھائی دیتے ہیں ۔۔