حیدرآباد۔18۔نومبر (سیاست نیوز) متحدہ آندھراپردیش کے آخری سابق چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی نے ملک و اور بالخصوص ریاست کی سیاست میں پیدا شدہ انحطاط اور موجودہ حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان تمام حالات و واقعات کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ مسٹر کرن کمار ریڈی آج یہاں ہوٹل تاج کرشنا میں ممتاز صحافی اور مصنف شیکھر گپتا کی انگریزی کتاب ’اینٹی سیپیٹنگ انڈیا دی بیسٹ آف نیشنل انٹرسٹ‘ (ہندوستان کی پیش بینی بہترین قومی مفاد میں) کی رسم اجرائی کے موقع پر مخاطب کر رہے تھے۔ اس تقریب کا اہتمام منتھن فاؤنڈیشن کے اشتراک سے میڈیا اسکیپ اور تاج کرشنا نے کیا تھا۔ مسٹر کرن کمار ریڈی نے کہا کہ وہ آندھراپردیش کی تقسیم کی ابتداء سے مخالف تھے اور یہ پیش قیاسی کی تھی کہ تقسیم کی صورت میں دونوں ریاستیں تلنگانہ اور مابقی آندھراپردیش پانی اور برقی کے بدترین بحران میں پھنس جائیں گے ۔ نتیجتاً صورتحال تصادم تک پہنچ جائے گی، آج یہ صورتحال واضح طور پر نظر آرہی ہے۔ مسٹر کرن کمار ریڈی نے کہا کہ موجودہ دور کے سیاسی قائدین عوامی فلاح و بہبود اور ملک کی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات اور سستی شہرت کیلئے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب وہ چیف منسٹر تھے اکثر یہ دیکھا کرتے تھے اپوزیشن ارکان غیر ضروری طور پر ہنگامہ آرائی کر رہے ہیں، ان کا مقصد کسی عوامی مفاد کے مسئلہ پر حکومت کی توجہ مبذول کرانا نہیں ہوتا تھا بلکہ وہ اخبارات اور ٹیلی ویژن میں اپنی خبروں اور تصویروں کی اشاعت کے مقصد سے ہنگامہ آرائی کیا کرتے تھے ۔ مسٹر کرن کمار ریڈی نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو خبردار کیا کہ وہ ایسے سیاستدانوں سے چوکس رہیں۔ ذرائع ابلاغ کو چاہئے کہ وہ مفاد پرست سیاستدانوں کی حوصلہ افزائی نہیں بلکہ حوصلہ شکنی کریں۔ کتاب کے مصنف مسٹر شیکھر گپتا نے اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت کی بعض پالیسیوں کی مذمت کی۔ مسٹر شیکھر گپتا نے ملک میں فرقہ پرستوں کی بڑھتی ہوئی طاقت پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک پر زعفرانی طاقتوں کا خطرہ منڈلا رہا ہے جس سے عوام کو چوکس رہنا چاہئے۔ ایسے حالات میں بالخصوص سیکولر طاقتوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فرقہ پرست طاقتوں سے کامیابی کے ساتھ نمٹیں۔ مسٹر شیکھر گپتا نے اپنی کتاب میں شامل بعض اہم واقعات کے اقتباسات کا حوالہ دیا جن میں 6 ڈسمبر 1992 ء کو بابری مسجد کی شہادت اور مابعد کے بدترین فرقہ وارانہ فسادات کا تذکرہ بھی شامل ہے۔