ملک میں مسلمانوں کی آبادی میں 24 فیصد کا اضافہ

نئی دہلی 22 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی 2001 سے 2011 کے درمیان 24 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ قومی سطح پر جملہ 18 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ اس اضافہ کے بعد ہندوستان کی جملہ آبادی میں مسلمانوں کا تناسب 13.4 فیصد سے بڑھ کر 14.2 فیصد ہوگیا ہے ۔ ملک کی تمام ریاستوں میں جموں و کشمیر میں سب سے زیادہ مسلم آبادی ہے ۔ وہاں مسلمانوں کا تناسب 68.3 فیصد ہے جبکہ دوسرے نمبر پر آسام ہے ۔ یہاں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 34.2 فیصد ہے ۔ مغربی بنگال تیسرے نمبر پر ہے یہاں مسلمانوں کی آبادی جملہ آبادی کا 27 فیصد ہے ۔ مذہبی گروپس کی آبادی سے متعلق مردم شماری کی تفصیلات میں یہ بات سامنے آئی ہے ۔

1991 سے 2001 کے درمیان ملک میں مسلمانوں کی آبادی میں 29 فیصد کا اضافہ ہوا تھا ۔ اس بار ایک دہے میں یہ اضافہ 24 فیصد کا رہا ہے ۔ بحیثیت مجموعی قومی آبادی میں اضافہ کا تناسب 18 فیصد ہے اور مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 24 فیصد اضافہ کے ساتھ سب سے زیادہ ہے ۔ آبادی میں مسلمانوں کی تعداد میں سب سے زیادہ تیزی سے اضافہ آسام میںہوا ہے ۔ 2001 میں مسلمان آسام کی آبادی کا 30.9 فیصد حصہ تھے اور اب یہ تناسب بڑھ کر 34.2 فیصد ہوگیا ہے ۔ آسام کو گذشتہ تین دہوں میں بنگلہ دیشی در اندازوں کی آمد کا بھی سامنا ہے ۔ وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ابھی رجسٹرار جنرل مردم شماری کی جانب سے اس ڈاٹا کی تیاری کا عمل جاری ہے اور اسے باضابطہ طور پر جلدی ہی جاری کیا جائیگا ۔ منی پور ملک کی وہ واحد ریاست ہے جہاں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب کم ہوا ہے ۔

یہ تناسب جہاں 2001 میں8.8 فیصد تھا وہیں اب گھٹ کر 8.4 فیصد رہ گیا ہے ۔ مغربی بنگال میں بھی مسلمانوں کی آبادی کے تناسب میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے ۔ یہاں مسلمانوں کی آبادی 2001 میں 25.2 فیصد تھی جو 2011 میں بڑھ کر 27 فیصد ہوگئی ہے ۔ یہاں مسلمانوں کی آبادی میں 1.8 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جو قومی سطح پر ہونے والے مسلم آبادی کے اضافہ سے دوگنے سے بھی زیادہ ہے ۔ اترکھنڈ میں بھی مسلمانوں کی آبادی بڑھی ہے ۔ یہاں یہ تناسب 1109 فیصد سے 13.9 فیصد ہوگئی ہے ۔

یہاں دو فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ جن دوسری ریاستوں میں مسلمانوں کی آبادی میں ایک دہے میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے ان میں کیرالا ‘ گوا ‘ جموں و کشمیر اور ہریانہ کے علاوہ دہلی بھی شامل ہے ۔ جنوب کی ریاست کیرالا میں بھی مسلمانوں کی آبادی میں خاطر خواہ اضافہ درج کیا گیا ہے ۔ رجسٹرار جنرل و کمشنر مردم شماری نے جو وزارت داخلہ کے تحت کام کرتے ہیں مارچ 2014 میں یہ ڈاٹا تیار کرلیا تھا ۔ تاہم سابقہ یو پی اے حکومت نے اس کی اجرائی کو روک دیا تھا ۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کل ہی کہا تھا کہ اس ڈاٹا کو بہت جلد جاری کردیا جائیگا ۔ مرکزی زیر انتظام علاقوں میں لکشدویپ میں سب سے زیادہ آبادی مسلمان ہے ۔ وہاں 96.2 فیصد مسلمان ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اعداد و شمار مردم شماری کے اندرون تین سال جاری کئے جاتے ہیں اور چونکہ اب 2015 ہے اور اس کی مہلت پہلے ہی ختم ہوچکی ہے ۔ گذشتہ مرتبہ مذہب کی بنیاد پر آبادی کا ڈاٹا ملک میں 2004 میں جاری کیا تھا جو 2001 تک کے اعداد و شمار کا ریکارڈ تھا ۔