ملکاجگری کے کئی علاقوں میں آبی سربراہی کا سنگین مسئلہ ، برقی سربراہی مسدود

حیدرآباد ۔ 18 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : ایک جانب دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں گذشتہ کئی دنوں سے وقفہ وقفہ سے ہونے والی بارش کی وجہ سے سڑکوں پر پانی جمع ہورہا ہے اور ٹرافک مسائل میں اضافہ کررہا ہے تو دوسری جانب شہر کے کئی علاقے پینے کے پانی کے حصول کے لیے واٹر ٹینکرس کے پاس لمبی لمبی قطاروں میں جدوجہد کرتے دکھائی دے رہے ہیں اور ان ہی علاوں میں سکندرآباد کا علاقہ ملکاجگری بھی ہے جہاں کے کئی محلوں میں پینے کے پانی کا مسئلہ سنگین ہوگیا ہے ۔ کارخانہ حشمت پیٹ ، بوئن پلی میں پہلے ہی پینے کے پانی کی سربراہی متاثر ہے لیکن اب وینکٹیشورا کالونی کے عوام کو واٹر ٹینکر کے پاس طویل قطاروں میں جدوجہد کرتا دیکھا گیا ہے ۔ ملکاجگری کے کئی علاقوں میں گذشتہ 3 مہینوں سے آبی سربراہی متاثر ہے اور عوام نے بارہا متعلقہ عہدیداروں کی توجہ اس سنگینی مسئلے کی طرف مبذول کروائی ہے لیکن تمام تر کوششیں رائیگاں گئی ہیں ۔ عوام میں تو غصہ اپنے عروج پر اس لیے بھی ہے کیوں کہ عہدیداروں کی جانب سے آبی سربراہی پر تو کوئی خاص توجہ نہیں دی جارہی ہے لیکن دوسری جانب آبی سربراہی کے بلوں کی وصولی میں یہ کافی مستعدی کے ساتھ اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں ۔ آبی سربراہی کے سنگین مسئلے سے ملکاجگری کی عوام پہلے ہی پریشان تھے تو چہارشنبہ کو نگہداشت کے نام پر 6 گھنٹے برقی سربراہی مسدود کردی گئی ہے ۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے ایک دن پہلے ہی اعلان کردیا گیا تھا کہ درختوں کی کٹوائی اور دیگر امور کے ضمن میں چہارشنبہ کو ملکاجگری علاقے میں صبح 10 بجے تا 4 بجے شام برقی سربراہی بند رہے گی ۔ مقامی عوام نے حکومت تلنگانہ اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوام کو برقی اور آبی جیسی بنیادی ضروریات کی تکمیل میں لاپرواہی سے کام نہ لیں ۔۔