نئی دہلی۔ 19جون (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان نے آج کہا کہ عراقی حکام نے ہندوستان کے مغویہ 40 ورکرس کے ٹھکانے کا پتہ چلا لیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ گڑبڑ زدہ موصل ٹاؤن میں موجود ہیں۔ انہیں بحفاظت واپس لانے کیلئے تمام تر کوششیں کی جارہی ہیں۔ حکومت نے کہا کہ پنجاب ، کیرالا اور دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے مغویہ ہندوستانیوں کے بشمول اس تشدد سے متاثرہ علاقوں میں تمام 120 ہندوستانی موجود ہیں۔ مغویہ ہندوستانیوں کی سلامتی پر تشویش پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علاقوں میں پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کے بارے میں بھی حکومت فکرمند ہے۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے آج کہاکہ اغواء شدہ افراد کے علاوہ پھنسے ہوئے دیگر افراد کو بچانے کی ہرممکن کوشش جاری ہے۔ اغواء شدہ افراد کے ارکان خاندان کو تیقن دیتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ اُنھیں بچانے کی ہرممکن کوشش کی جارہی ہے۔ وزیر خارجہ نے کل اعلان کیا تھا کہ موصل سے 40 ہندوستانیوں کا اغواء کیا گیا ہے تاہم زرتاوان کا کوئی مطالبہ منظر عام پر نہیں آیا۔ کارکنوں میں بیشتر پنجابی اور شمالی ہند کے افراد ہیں جو موصل میں تعمیراتی پراجکٹس میں کام کررہے تھے جنھیں آئی ایس آئی ایس کے عسکریت پسندوں نے اغواء کرلیا۔ وزیر خارجہ کے ترجمان کے بموجب ہندوستان مختلف انسانی ہمدردی کے اداروں سے ربط قائم کئے ہوئے ہے۔ اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے عراق اور حکومت عراق سے اغواء کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔
تقریباً 10 ہزار ہندوستانی شہری فی الحال عراق میں ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مزید 100 ملک کے تشدد زدہ علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ وزارت خارجہ کے بموجب 46 نرسیں بھی قصبہ تکریت میں پھنسی ہوئی ہیں۔ اِس قصبہ پر بھی عسکریت پسندوں کا قبضہ ہوچکا ہے۔ ہندوستانی سفارت خانہ کی درخواست پر بین الاقوامی ہلال احمر تنظیم نے نرسیس سے ربط پیدا کیا ہے۔ حکومت نے سابق سفیر برائے عراق سریش ریڈی کو بغداد روانہ کیا ہے تاکہ ہندوستانی کوششوں کو تقویت پہنچائی جاسکے۔ چیف منسٹر پنجاب پرکاش سنگھ بادل نے کہاکہ اُن کی ریاست موصل سے اغواء شدہ پنجابیوں کے تمام اخراجات برداشت کرنے کے لئے تیار ہے۔
امرتسر سے موصولہ اطلاع کے بموجب پنجاب کے بعض اغواء شدہ نوجوانوں کے ارکان خاندان نے وزیر خارجہ سشما سوراج سے ملاقات کی اور اُن سے اپیل کی کہ اغواء شدہ افراد کی جلد از جلد وطن واپسی کو ممکن بنایا جائے۔ سشما سوراج نے کہاکہ وزارت خارجہ کو عراق میں پھنسے ہوئے پنجابی نوجوانوں کے بارے میں مزید تفصیلی معلومات حاصل کرنا ہے۔ حکومت نے آج کہاکہ وہ ہندوستانی شہریوں کو جو عراق میں پھنسے ہوئے ہیں، بچانے کے لئے24 گھنٹے کارروائیوں میں مصروف ہے۔ اُسے کئی شکایات وصول ہوئی ہیں لیکن حکومت صرف بیانات جاری کرتے ہوئے معاملہ کو پیچیدہ بنانا نہیں چاہتی۔ مرکزی وزیر برائے پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈو نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وہ فرضی سوالات کے جواب نہیں دیں گے۔ ہندوستانیوں کو واپس لانا اُن کی اولین ترجیح ہے اور حکومت اِس کیلئے 24 گھنٹے کام کررہی ہے۔