نئی دہلی 10 جون ( سیاست ڈاٹ کام)کانگریس نے آج صدر جمہوریہ پرنب مکرجی کے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پر تحریک تشکر کے دوران بی جے پی کے ایجنڈہ کے خاکہ پر تنقید کی اور کہا کہ یو پی اے کی جانب سے کئے ہوئے کارناموں کا نئی حکومت کی جانب سے اعادہ کیا جارہا ہے ۔ کانگریس نے مودی حکومت کو مشورہ دیا کہ اپنے تیقنات کی تکمیل کا ڈھول پیٹے بغیر اور مغرور ہوئے بغیر ان کی تکمیل کرے۔ کانگریس جس کے لوک سبھا میں ارکان کی تعداد کم ہوکر صرف 44 رہ گئی ہے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے وجود کا احساس دلاتی رہے گی اور اپنی مختصر تعداد کا لحاظ کئے بغیر عوام کی فلاح و بہبود کیلئے جن اقدامات کا تیقن دیا گیا ہے ان پر عمل آوری کیلئے حکومت پر دباو ڈالتی رہے گی۔اس پس منظر میں قائد کانگریس مقننہ پارٹی لوک سبھا ملک ارجن کھرگے نے مہاراشٹرا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حالانکہ پانڈو تعداد میں کوروؤں سے بہت کم تھے اس کے باوجود انہیں شکست نہیں دی جاسکی۔ میزیں تھپتھپا کر ستائش کرنے پر جس میں صدر کانگریس سونیا گاندھی بھی شامل تھیں ملک ارجن کھرگے نے کہا کہ انہیں اعتماد ہے کہ کانگریس پارٹی دوبارہ برسر اقتدار آئے گی ۔ این ڈی اے کو ہمیشہ کیلئے برسر اقتدار رہنے کا خواب نہیں دیکھنا چاہئے ۔صدر جمہوریہ کے خطاب پر تحریک تشکر کے سلسلہ میں تقریر کرتے ہوئے ملک ارجن کھرگے نے نئی حکومت کے ایجنڈہ پر نکتہ بہ نکتہ تبصرہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 10 سال کے دوران یو پی اے حکومت نے جو کارنامے انجام دیئے ہیں نئی حکومت کا ایجنڈہ اُن ہی کو اجاگر کررہا ہے ۔ اس میں کوئی نئی بات نہیں کہی گئی ہے ۔ مودی نے ہم نے جو کچھ کیا تھا اُس کا اعادہ کیا ہے ۔ ہمیں اپنا ریکارڈ درست رکھنا چاہئے ۔ انہوں نے 45 منٹ طویل تقریر میں جس کی سونیا گاندھی اور راہول گاندھی نے بھی ستائش کی کہا کہ بی جے پی اپنی اشیاء کی تشہیر کرنے اور باتوں پر زور دینے کی ماہر ہے وہ صرف غریب عوام کو باتوں کے ذریعہ خوش کرسکتی ہے ۔ ان کے پیٹ نہیں بھر سکتی۔ انہوںنے کہا کہ صرف تشہیر یا خوشنما پیاکنگ سے ملک نہیں چلایا جاسکتا انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ لوک سبھا انتخابات میں زبردست اکثریت حاصل کرنے پراسے مغرور نہیں ہونا چاہئے بلکہ اپنے تیقنات کی تکمیل کرنا چاہئے ۔