لندن۔ 17؍اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام)۔ وزیراعظم برطانیہ ڈیوڈ کیمرون نے آج کہا کہ مغربی ممالک کو دولت اسلامیہ کے زہریلے اور انتہا پسند نظریہ کے خلاف ’پیڑھیوں کی جدوجہد‘ درپیش ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تحریک برطانیہ کے لئے راست خطرہ ہے۔ وزیراعظم برطانیہ نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ ان کی سیاسی زندگی کے باقی برسوں میں یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ روزنامہ ’سنڈے ٹیلی گراف‘ کو مکتوب تحریر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہمیں ایک نئے خطرہ کا سامنا ہے جو ایک شخص کے تصورات پر مبنی ہے
اور وہ اپنے قائم کردہ نظریات پر اٹل ہے اور انھیں حقیقت کا روپ دینے کے لئے کچھ بھی کرنے تیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اس زہریلے اور انتہا پسند نظریہ کے خلاف ’پیڑھیوں کی جنگ‘ کے درمیانی مرحلہ میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دولت اسلامیہ کے جنگجو پورے شام اور عراق میں یلغار کرتے جارہے ہیں اور برطانیہ کے لئے بھی ایک راست خطرہ بن گئے ہیں۔ ان کے ساتھ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں افراد ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عراق اور شام کو خود ساختہ خلافت کے درمیان ایک رکاوٹ کا کردار ادا کرنا ہے۔
ڈیوڈ کیمرون نے دولت اسلامیہ کی دہشت گرد تحریک پر فکرمندی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم اس غیر معمولی خطرناک دہشت گرد تنظیم کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کی ابھی سے کوشش نہ کریں تو یہ اتنی طاقتور ہوجائے گی کہ برطانیہ کی سڑکوں پر ہمیں نشانہ بناتی ہوئی نظر آئے گی، تاہم انھوں نے کہا کہ برطانوی فوجیوں کو عراق روانہ نہیں کیا جائے گا اور وہ اس خطرے کے مقابلہ کے لئے ایران کے ساتھ تعاون کرنے کو ترجیح دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، مصر اور ترکی کے ساتھ انتہا پسند طاقتوں کے خلاف اتحاد کرنا ہوگا۔ ایران کے ساتھ اتحاد کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔