پاناجی۔ 14 جون (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے آئندہ چند برسوں میں ’سخت فیصلوں‘ کا انتباہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض شعبوں میں اس طرح کے فیصلوں کے بغیر بہتری نہیں لائی جاسکتی اور انہوں نے پیشرو یو پی اے حکومت کو معیشت سے غیرموثر ڈھنگ سے نمٹنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ مودی نے بی جے پی کارکنوں سے خطاب میں کہا کہ ملک کی معیشت کو بہتر بنانے اور خوداعتمادی بحال کرنے آئندہ ایک یا دو سال میں سخت اقدامات اور سخت فیصلے ناگزیر ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ مودی نے اقتدار سنبھالنے کے اندرون تین ہفتہ پیشرو منموہن سنگھ کی کارکردگی پر تنقیدی تبصرہ کیا۔ مودی نے کہا کہ ایسے وقت حکومت کی باگ ڈور انہوں نے سنبھالی جبکہ پیشرو حکومت نے کچھ بھی باقی نہیں رکھا یہاں ہر چیز خالی ہے۔ ملک کی معاشی صورتِحال آخری حد کو پہنچ چکی ہے، لیکن مختصر عرصہ میں موثر اقدامات سے صورتِحال کو بہتر بنایا جائے گا۔ مودی نے کہا کہ انہیں اندازہ ہے کہ اِن اقدامات سے عوام کو تکلیف ہوگی جنہوں نے مجھے بے پناہ محبت دی لیکن ملک کے عوام جب یہ جان لیں گے کہ اِن اقدامات کے نتیجہ میں مالی حالت بہتر ہوگی تو اپنی محبت برقرار رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگراقدامات نہ کئے جائیں تو معاشی صورتحال میں بہتری نہیں آئیگی چنانچہ ہمیں کارروائی کرنی ہوگی۔ مودی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’اب وقت آگیا کہ ملک کے مفاد میں سخت فیصلے کئے جائیں ، جو کچھ بھی فیصلے ہم کریں گے ، وہ پوری طرح ملک کے مفاد میں ہوں گے۔