معمر والدین کو اولاد کے غلط برتاؤ پر گفٹ معاملت منسوخ کرنیکا اختیار!

ممبئی ، 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) بامبے ہائی کورٹ نے رولنگ دی ہے کہ اگر اولاد اپنے ماں باپ کے ساتھ اُن کی پیرانہ سالی میں غلط برتاؤ کرتی ہے اور اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار کی جاتی ہے تو والدین اپنے بیٹے کو گفٹ (ہبہ) کے بطور دی گئی جائیداد واپس لے سکتے ہیں۔ جسٹس رنجیت مورے اور جسٹس انوجا پربھو دیسائی کی ڈیویژن بنچ نے سینئر سٹیزنس کی دیکھ بھال کیلئے موجود خصوصی قانون کا حوالہ دیا اور ٹربیونل کے اُس آرڈر کو حق بجانب قرار دیا جس نے اندھیری کے ساکن کی اپنے بیٹے کے حق میں گفٹ معاملت کو ختم کردیا جو فلیٹ میں 50 فیصدی حصے سے متعلق تھی۔ ججوں نے کہا کہ گفٹ ڈیڈ جو بیٹے اور اُس کی بیوی کی خواہش پر بنائی گئی تھی، اس میں یہ بات مضمر ہے کہ ضعیف العمر باپ کے ساتھ ساتھ اُن کی دوسری بیوی کی بھی اچھی طرح نگہداشت کی جائے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بیٹے کی پٹیشن کو منسوخ کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ظاہر طور پر بیٹا اور اُس کی بیوی اگرچہ والد کی دیکھ بھال اور نگہداشت کیلئے تیار ہیں لیکن وہ اُن کی دوسری بیوی کے حق میں ایسا ہی کرنے آمادہ نہیں ہیں۔ ان حالات میں ہمیں گفٹ ڈیڈ کی منسوخی والے آرڈر میں کوئی خامی نظر نہیں آتی ہے، اس لئے ہم اس پٹیشن کی برقراری پر آمادہ نہیں ہیں۔2014ء میں سینئر سٹیزن کی پہلی بیوی گزر جانے کے بعد وہ اپنے بیٹے اور اپنی بہو کی تقاضے پر نرم پڑگئے اور اندھیری میں واقع اپنے فلیٹ کا نصف حصہ گفٹ دے دیا تاکہ دوبارہ شادی کرنے کے اُن کے فیصلے کے بعد ماحول کشیدہ نہ ہونے پائے۔ لیکن بیٹا اور بہو نے ضعیف شخص کی دوسری بیوی کے ساتھ ناروا سلوک شروع کردیا۔ والدین اور معمر شہریوں کی دیکھ بھال اور بہبود سے متعلق قانون بابتہ 2007ء بیان کرتا ہے کہ اگر کوئی سینئر سٹیزن جائیداد کے اپنے حصے کو گفٹ کے طور پر اس شرط کے ساتھ منتقل کرتا ؍ کرتی ہے کہ اُن کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کی جاتی رہے گی، لیکن پھر اچھا برتاؤ روا نہ رکھے تو متعلقہ ٹربیونل اس معاہدہ کو کالعدم کرسکتا ہے۔