معاشرہ میں ٹیچرس کی حالت قابل رحم

بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ماؤں کا اساتذہ پر انحصار ، ٹیوشن کے رجحان میں تیزی سے اضافہ
حیدرآباد ۔ 25 ۔ نومبر : ( نمائندہ خصوصی ) : اساتذہ طلباء وطالبات کی زندگی کو نکھارنے سنوارنے ، تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ کرتے ہوئے انہیں ایک قابل انسان بنانے میں اہم رول ادا کرتے ہیں بچوں کے اخلاق و کردار پر جہاں والدین کا اثر ہوتا ہے اس سے کہیں زیادہ اثر اساتذہ کی تربیت ان کی شخصیت کا بھی ہوتا ہے ۔ غرض کسی بھی قوم کی ترقی میں اساتذہ منفرد نوعیت کا اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ نئی نسل کو وہ ایک نئی سوچ و فکر عطا کرتے ہیں ۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سخت محنت کے ذریعہ قوموں کی تقدیریں بدلنے والی ان شخصیتوں ( اساتذہ ) کو آج کے معاشرہ میں زیادہ اہمیت نہیں دی جارہی ہے ۔ اس کے برعکس ماضی میں استاذ کو ماں باپ کے برابر اہمیت دی جاتی تھی اور خود ماں باپ اپنی اولاد کو اساتذہ کے احترام کی تعلیم دیا کرتے تھے ۔ راقم الحروف نے اساتذہ کی حالت زار ان کی محنت اور سخت محنت کے بعد انہیں حاصل ہونے والے صلہ کے ساتھ ساتھ طلباء وطالبات کے والدین خاص کر ماں کی جانب سے اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کے لیے کی جانے والی کوششوں کا جائزہ لینے کی کوشش کی اور اس سلسلہ میں اساتذہ ، طلبہ اور چند والدین سے بات کی ہے ۔ شہر کے ایک مشہور خانگی اسکول کی ایک ٹیچر نے بتایا کہ سرکاری اسکولوں میں کام کرنے والی ٹیچروں کی حالت بہت اچھی ہے لیکن خانگی اسکولوں میں ٹیچروں کا استحصال کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ و الدین اپنی اولاد کو اسکول میں شریک کروادیتے ہیں اور ٹیچروں کو تقریبا 8 تا 9 گھنٹے ان بچوں کی تعلیم و تربیت کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے ان کی حرکتوں پر نظر رکھنی پڑتی ہے ۔ انہیں یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ بچوں نے ہوم ورک کیا ہے یا نہیں ؟ لنچ لیا ہے یا نہیں؟ ان کی طبیعت تو ٹھیک ہے یا نہیں ؟ کلاس میں ٹیچرس بچوں پر خاص توجہ دیتے ہیں ۔ ان کی ہر بات کو توجہ سے سنتے ہیں ۔ ماں باپ کے غیاب میں وہ ایک طرح سے اپنے طلبہ کے لیے والدین کا رول ادا کرتے ہیں ۔ کلاس میں بچے آہ بھی کرتے ہیں تو وہ بے چین ہو اٹھتے ہیں ۔ ان اہم ذمہ داریوں کی انجام دہی کے بعد انہیں 5000 تا 10 ہزار روپئے تنخواہ دی جاتی ہے ۔ اس ٹیچر نے بڑے افسوس کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ شہر میں بہت کم ایسے اسکولس ہوں گے جہاں کے چند ایک اساتذہ کو زیادہ سے زیادہ 15 ہزار تا 17 ہزار روپئے تنخواہ دی جاتی ہو ۔ ایک اور اسکول میں چھوٹی جماعتوں کو پڑھانے والی ایک ٹیچر نے بتایا کہ چھوٹے بچوں کو پڑھانا انہیں سمجھانا کوئی آسان کام نہیں اور یہ کام ہر کسی کے بس کی بات نہیں کئی ٹیچرس تو چھوٹی کلاس پڑھانے سے بچنے کے لیے اپنی ملازمتیں ترک کردیتی ہیں ۔ ان کے خیال میں چھوٹے بچے و بچیوں کو پڑھانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے ۔ اس ٹیچر کے مطابق اتنی ساری محنت کے باوجود انہیں جو تنخواہیں دی جاتی ہیں وہ اس قدر قلیل ہوتی ہیں کہ اس کے بارے میں دوسروں کو بتانا اچھا نہیں لگتا ۔ اساتذہ سے بات چیت کے بعد ہم نے چند ماں باپ سے بات کی ایک گورنمنٹ اسکول کے ٹیچر نے بتایا کہ اپنے بچوں کے لیے انہوں نے ٹیوشن کا انتظام کردیا ہے جس سے ان میں بے فکری کا احساس پایا جاتا ہے ۔ اس لیے کہ آج کل مائیں گھریلو کام کاج یا پھر ٹی وی سیرئیلس دیکھنے میں اس قدر مصروف ہوجاتی ہیں کہ انہیں اپنے بچوں پر توجہ دینے کا موقع نہیں ملتا اور اگر کوئی ماں بچوں کو گھر میں ہی پڑھاتی ہیں تو بچے اپنی ماں کی باتوں کو اس طرح اہمیت نہیں دیتے جس طرح وہ ٹیچرس کی باتوں پر عمل کرتے ہیں ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایسے خاندانوں کی اکثریت ہے جہاں مائیں دن بھر مصروف رہتی ہیں اور باپ صبح گھر سے نکلتے ہیں اور رات دیر گئے واپس آتے ہیں ایسے میں وہ اپنے بچوں کو اسکول روانہ کر کے یا پھر ٹیوشن دلاکر اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل کرلیتے ہیں ۔ مہدی پٹنم کی رہنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو ٹیوشن دلانا شروع کیا جس کے بہتر نتائج برآمد ہوئے ہیں اس کے علاوہ اسکولس میں ٹیچرس جو تعلیم دیتے ہیں وہ سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے ۔ اب اللہ کے فضل سے ان کی بیٹی کو ایم بی بی ایس میں داخلہ مل گیا ہے ۔ بناء کسی ڈونیشن کے یہ سب اساتذہ کی محنت کا نتیجہ ہے ۔ ہماری ملاقات ایسے سرپرستوں سے بھی ہوئی جن کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اسکول سے آنے کے بعد نہیں پڑھاتے اور ان کی مالی حالت ٹیوشن کے انتظام کی اجازت نہیں دیتی ہے اس کے باوجود ان کے بچے اسکول سے آنے کے بعد گھر میں چند گھنٹے پڑھنے بیٹھ جاتے ہیں اور ان کے تعلیمی نتائج بھی بہتر آتے ہیں ۔ اکثر ماں باپ کا یہی خیال ہے کہ موجودہ حالات میں مصروفیات اس قدر بڑھ گئیں ہیں کہ بچوں کے لیے ٹیوشن کا انتظام کرنا ضروری ہوگیا ہے ۔ ویسے بھی بچوں کو اسکول بھیج کر تقریبا 8 ، 9 گھنٹے بڑے سکون سے گذر جاتے ہیں ۔ ایک ٹیچر نے جو بیرون ملک کے اسکولوں میں بھی ملازمت کر کے واپس آئیں بتایا کہ اساتذہ کا کام بہت مشکل ہوتا ہے ۔ پہلے مائیں اپنے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیا کرتی تھیں لیکن اب رجحان بدل گیا ہے ۔ مائیں اپنے بچوں کو اسکول اور ٹیوشن کے لیے بھیج کر یہ سمجھ رہی ہیں کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری مکمل کرلی ہے ۔ انہوں نے خانگی اسکولوں کے ٹیچروں کی حالت زار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہاں ٹیچروں کا استحصال کیا جارہا ہے ۔ اگر دیکھا جائے تو ان کی حالت بھی ہماری مساجد کے ائمہ اور موذنین کی طرح ہوگئی ہے جن کا بہت بلند مقام و مرتبہ ہے لیکن ان کی تنخواہیں اتنی کم ہیں کہ وہ خود اپنے بچوں کو اچھے اسکول میں تعلیم نہیں دلاسکتے ۔ حد تو یہ ہے کہ کچھ اچھا کھانے اور کہیں جانے کے لیے انہیں سو مرتبہ سوچنا پڑتا ہے ۔۔