حیدرآباد 16 فبروری (سیاست نیوز) مہدی پٹنم آرمی گیارسن میں فوجیوں کے ہاتھوں زندہ جلائے جانے والے 11 سالہ کمسن مدرسہ کے طالبعلم شیخ مصطفی الدین قتل کیس کے سلسلہ میں دائر کی گئی درخواست مفاد عامہ کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ہائی کورٹ جسٹس کلیان جیوتی سین گپتا نے طالبعلم کے قتل کیس کے ضمن میں فوج کی جانب سے داخل کئے گئے جواب پر مطمئن نہ ہونے کا اشارہ دیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ آج درخواست کی سماعت کے دوران ایڈوکیٹ غلام ربانی نے سابق میں فوجیوں کی جانب سے حلف نامہ داخل کیا گیا تھا جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ فوجی لباس میں ملبوس عام شہری طالب علم کا قتل کئے ہوں گے ۔ ایڈوکیٹ نے فوج کے اس موقف پر اعتراض کرتے ہوئے عدالت کو یہ واقف کروایا کہ انتہائی سکیوریٹی والے علاقہ آرمی گیارسن میں کس طرح عام شہری فوجیوں کے لباس میں داخل ہوسکتا ہے ۔ سماعت کے بعد ہائی کورٹ نے تلنگانہ حکومت کو قتل کیس کی تحقیقات سے متعلق تازہ حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔