مشرف کیس: پاکستانی حکومت کا عدالتی فیصلہ کو چیلنج

اسلام آباد ، 14 جون (سیاست ڈاٹ کام) حکومت پاکستان نے سپریم کورٹ میں ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف اپیل داخل کی ہے جس میں سابق فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف پر بیرون ملک سفر پر عائد امتناع کو برخاست کیا گیا تھا ۔ اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے سندھ ہائی کورٹ کی رولنگ کے خلاف اپیل دائر کی ہے جہاں حکومت کو ہدا یت کی گئی تھی کہ 70 سالہ مشرف پر سے بیرون ملک سفر نہ کرنے کا امتناع برخاست کیا جائے۔ جسٹس محمد علی مظہر اور شاہنواز پر مشتمل دو رکنی بنچ نے جمعرات کو اپنے مختصر فیصلہ میں نواز شریف حکومت کو ہدایت کی تھی کہ مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) سے حذف کیا جائے ۔ ہائی کورٹ نے اپنے اس فیصلہ کے خلاف ا پیل دائر کرنے کیلئے 15 دنوں کی مہلت دی تھی ۔ اپنی اپیل میں حکومت پا کستان نے فاضل عدالت سے استدعا کی ہے کہ ای سی ایل سے مشرف کا نام حذف کرنے کی اجازت نہ دی جائے جس کا مقصد کسی بھی فرد کے بیرون ملک سفر پر عائد کردہ امتناع سے ہے ۔ اپیل میں بھی کہا گیا ہے کہ مشرف اگر ایک بار ملک سے باہر چلے گئے تو وہ ان کے خلاف غداری سے متعلق مقدمہ کا سامنا کرنے واپس ہی نہیں آئیں گے۔

یاد رہے کہ مشرف گزشتہ سال مارچ میں ملک میں عام انتخابات سے عین قبل پاکستان واپس آئے تھے اور اس طرح انہوں نے اپنی زائد از چار سالہ ازخود جلا وطنی کی زندگی کا خاتمہ کیا تھا ۔ پاکستان آتے ہی انہیں متعدد مقدمات کا سامنا کرنا پڑا جن میں ملک سے غداری کا مقدمہ بھی شامل ہے، جس میں انہیں ان کی رہائش گاہ پر ہی نظربند کرتے ہوئے بیرون ملک سفر کرنے پر امتناع عائد کردیا گیا تھا ۔ انہوں نے ہائی کورٹ میں درخواست داخل کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ان کا نام ای سی ایل فہرست سے حذف کیا جائے تاکہ متحدہ عرب امارات جاکر وہ اپنی علیل والدہ کی عیادت کرسکیں۔