مشتبہ انڈین مجاہدین کارکن گرفتار : دہلی پولیس کا ادعا

نئی دہلی 6 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) دہلی پولیس کے خصوصی سیل نے آج ادعا کیا ہے کہ اس نے دہلی میں جامع مسجد میں ہوئے دہشت گردانہ حملہ میں مبینہ ملوث انڈین مجاہدین کے ایک دہشت گرد اعجاز شیخ کو گرفتار کرلیا ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اعجاز شیخ کئی مقدمات میں مطلوب تھا اور اسے کل رات دیر گئے اتر پردیش میں سہارنپور کے مقام سے گرفتار کیا گیا ہے ۔ اسپیشل کمشنر ( اسپیشل سیل ) مسٹر ایس این سریواستو نے بتایا کہ انڈین مجاہدین کے کارکن اعجاز شیخ کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ سمجھا جاتا ہے کہ وہ انڈین مجاہدین کا ایک کلیدی رکن اور فنی ماہر ہے ۔ وہ ایک طویل عرصہ سے مفرور تھا اور دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کی ایک ٹیم نے ایک خاص اطلاع ملنے پر اسے کل رات گرفتار کیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ گرفتاری اترپردیش میں سہارنپور ضلع میں ہوئی ہے ۔

سکیوریٹی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ اعجاز شیخ کی گرفتاری گذشتہ دو سال کے دوران مسلسل گرفتاریوں سے پریشان انڈین مجاہدین کیلئے ایک اور دھکا ہے ۔ اس دوران دہلی کی ایک عدالت نے آج اعجاز شیخ کو دس دن کیلئے پولیس تحویل میں بھی دیدیا ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسے انڈین مجاہدین کی جانب سے ایک غیر قانونی اسلحہ فیکٹری قائم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ 27 سالہ اعجاز شیخ پاکستان کو مفرور انڈین مجاہدین کے رکن محسن چودھری کا برادر نسبتی ہے ۔ پولیس نے عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے کئی مقدمات کے سلسلہ میں تفصیلی پوچھ تاچھ کرنے کی ضرورت ہے اس لئے 15 دن کیلئے اسے عدالتی تحویل میں دیا جائے تاہم عدالت نے دس دن کیئلے پولیس تحویل میں دینے کے احکام جاری کئے ۔ پولیس دعوی کر رہی ہے کہ ملزم نے پوچھ تاچھ کے دوران انڈین مجاہدین کا سرگرم رکن ہونے کا اقبال کیا ہے ۔