مسلم نوجوانوں کا پولیس اور مسلح افواج میں بھرتی ہونا ضروری

سیاست پولیس تربیت کے پہلے بیاچ میں شامل رہے لیفٹننٹ سید صدیق حسن سے بات چیت
حیدرآباد ۔ 21 ۔ نومبر : ( محمد ریاض احمد) : گجرات فسادات میں مسلمانوں کے قتل عام ان کے ہزاروں لاکھوں کروڑ مالیتی املاک کی تباہی و بربادی کے بعد سارے ملک کے مسلمانوں میں خوف و ہراس اور مایوسی کا ماحول پیدا ہوگیا تھا کیوں کہ گجرات فسادات میں یہ بات کھل کر آگئی تھی کہ گجرات پولیس نے نہتے مسلمانوں کی جان و مال عزت و آبرو کے تحفظ کے لیے کچھ نہیں کیا ۔ فسادات کے بعد سیاست کی ایک ٹیم نے گجرات فسادات کے متاثرین کی مدد کے لیے ریاست کا دورہ کیا وہاں اس ٹیم کو ایک اعلی ہندو عہدیدار نے بتایا کہ اگر محکمہ پولیس میں مسلمان ہوتے تو اتنی بڑی تباہی و بربادی نہیں ہوتی ۔ اگرچہ اس عہدیدار نے ٹیم کے ارکان کو شائد ٹالنے کے لیے یہ بات کہی ہوگی ۔ لیکن اس عہدیدار کی بات ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کے قلب و ذہن میں ایسی اتری کہ انہوں نے پولیس میں مسلم نوجوانوں کی بھرتی کے لیے ٹریننگ شروع کروائی اس وقت ہر کوئی یہی کہہ رہا تھا کہ مسلمانوں کو پولیس میں بھرتی ہی نہیں کیا جاتا ۔ ایسے میں اس تربیت کا کیا فائدہ ؟ بعض لوگ تو نجی محفلوں میں محکمہ پولیس میں مسلم نوجوانوں کو بھرتی کرانے کے لیے شروع کردہ تربیتی کیمپ کا مذاق بھی اڑایا لیکن دیکھنے والوں نے دیکھا کہ سیاست کی جانب سے شروع کردہ اس مہم اور تربیتی کیمپ کے نتیجہ میں اب تک 935 نوجوانوں کی پولیس میں بھرتی عمل میں آئی اور فی الوقت حیدرآباد کے ہر پولیس اسٹیشن میں سیاست کے تربیتی کیمپ کے فارغ کانسٹبلس وغیرہ ضرور ملیں گے ۔ سیاست نے سال 2003 میں پولیس میں مسلم نوجوانوں کو بھرتی کرانے کے لیے جناب سید عبدالحمید مرحوم ، جناب عبدالعزیز ریٹائرڈ اے سی پی اور جناب عزیز جوڈو کی نگرانی میں تربیت کا آغاز کیا تھا ۔ اس بیاچ میں حیدرآباد کے سید صدیق حسن بھی شامل تھے جو آج 22 کمپنی کمانڈر 4 آندھرا بٹالین این سی سی کے لیفٹننٹ ہیں ۔ جناب سید عبدالعلیم اور محترمہ اقبال فاطمہ کے اسی نور نظر کا این سی سی میں سال 2008 کو تقرر عمل میں آیا دو قومی سطح پر سلور میڈل حاصل کرچکے ہیں اور انہیں پریڈ کمانڈر کا بھی اعزاز حاصل ہوا ۔ ملت کے اس قابل فخر نوجوان نے جن کی 22 کمپنی کمانڈ 4 آندھرا بٹالین کے کیڈیٹس نے حال ہی میں وادی کشمیر کا دورہ کرتے ہوئے انسانی بنیادوں پر کشمیر کے سیلاب متاثرین کی مدد کر کے واپس ہوئے ہیں ۔ ایک خصوصی ملاقات میں بتایا کہ سیاست ، ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں ، مینجنگ ایڈیٹر جناب ظہیر الدین علی خاں اور نیوز ایڈیٹر جناب عامر علی خاں نے مسلم نوجوانوں کو پولیس میں بھرتیوں کے لیے تربیتی کیمپس منعقد کرتے ہوئے سارے ملک کے مسلمانوں کو مثبت پیام دیا جس کے بہتر نتائج برآمد ہورہے ہیں ۔ لیفٹننٹ سید صدیق حسن کے مطابق پہلے بیاچ میں 200 سے زائد نوجوانوں کو تربیت دی گئی جن میں سے اچھی خاصی تعداد میں نوجوانوں کا آرمڈ ریزرو ، پولیس اور مسلح افواج ( فضائیہ ، بحریہ اور بری فوج ) میں تقررات عمل میں آئے ۔ سید صدیق حسن کے مطابق ان کے بیاچ میں پولیس اور فوج میں بھرتی کا جنون کی حد تک شوق پایا جاتا تھا جب کہ انسٹرکٹر سخت محنت کراتے پہلے دوڑایا جاتا ۔ قلی قطب شاہ اسٹیڈیم کے کم از کم 10 راونڈ لگائے جاتے جب کہ ہر اتوار کو راجندر نگر یا دور دراز کے کسی مقام لے جاکر دوڑاتے ، کسرت کرائی جاتی ، اسپرنٹ رن شاٹ پٹ ، لانگ جمپ ، ہائی جمپ کی تربیت دی جاتی ہے ۔ 100 میٹر 200 میٹر اور 400 میٹر کی دوڑ میں شریک کیا جاتا ۔ اس محنت کے بعد کھانے میں دو موز ، ایک گلاس دودھ ، دیا جاتا ۔ ڈھائی ماہ کی اس تربیت کے دوران کئی اچھے دوست ملے اس بیاچ میں شامل رہے ۔ اکشے آستھانہ لیفٹننٹ کرنل ہے جب کہ محمد یونس ریاض کی النور یونیورسٹی میں اڈمنسٹریٹیو آفیسر ، ظہیر عباس ملٹی نیشنل کمپنی کے مینجر ، کیپٹن عباس حیدری بحریہ ، زوہیب سی آر پی ایف میں انسپکٹر ، رویندر ریڈی انسپکٹر پولیس ، سرینواسلو انسپکٹر چلکل گوڑہ ، محمد فاروق ( فوج ) ، عرفان ( بحریہ ) اور اکبر بنک میں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ محبوب نگر سے تعلق رکھنے والے مصطفی فلائنگ آفیسر اور کھمم کے جناب عبدالحنان پولیس سب انسپکٹر کے عہدہ پر فائز ہیں ۔ عبدالسمیع سی آر پی ایف میں سخت محنت کررہے ہیں ۔ لیفٹننٹ سید صدیق حسن نے مزید بتایا کہ سیاست نے جس راستے کا انتخاب کیا تھا ۔ آج لوگ وہی راستے پر چل رہے ہیں ۔ اس طرح سیاست نے ملت اور ہمدردان ملت کو ایک سوچ اور فکر دی ہے ۔ مسلم نوجوانوں کے نام اپنے پیام کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ مسلم نوجوانوں کو یونیفارم فورس میں شامل ہونا چاہئے ۔ یونیفارم فورس میں پولیس ، فوج ، سی آر پی ایف وغیرہ شامل ہیں ۔ لیفٹننٹ سید صدیق حسن جس کمپنی کے سربراہ ہیں اس کمپنی میں جملہ 200 کیڈیٹس ہیں ۔ اس میں 70 فیصد کالج کے اور 30 فیصد باہر کے امیدوار کمپنی میں شامل ہوسکتے ہیں۔ وہ کیڈیٹس کو پریڈ کی تربیت کے ساتھ رائفل چلانے اور ریاپڈ فائر وغیرہ کے علاوہ گھات لگانے وغیرہ کی تربیت دیتے ہیں ۔ انہوں نے مسلم بچوں سے کہا کہ وہ ہائی اسکول سے ہی این سی سی میں دلچسپی لیں اس میں A ، B اور C سرٹیفیکٹ حاصل کریں تو زندگی کے ہر شعبہ میں انہیں تحفظات ملیں گے ۔ میڈیکل کالجس میں این سی سی کیڈیٹس کے لیے 1.5 فیصد تحفظات فراہم کئے جاتے ہیں ۔ ان کی این سی سی کمپنی میں 90 فیصد طلبہ ہیں ۔ آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں 9 گروپ ہیں ۔ جن میں حیدرآباد ، سکندرآباد ، کاکناڈا ، گنٹور ، وشاکھا پٹنم ، کرنول ، نظام آباد ، ورنگل اور تروپتی شامل ہیں ۔۔