مسلم جنگ پل کی قدیم تختی کو مٹانے کی ناپاک کوشش

فارسی عبارت پر گوبر پوتنے کا سلسلہ جاری اور سرکاری محکمے بے خبر
حیدرآباد ۔ 20 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : آج حیدرآباد 80 لاکھ آبادی والا شہر بن گیا ہے جس کی سائنسی ترقی سے پڑوس کی ریاستوں کو کم و بیش حسد ہونے لگا ہے ۔ شہر کو ماڈرن ٹکنالوجی ۔ آئی ٹی کا مرکز سمجھا جارہا ہے وہ یوں ہی نہیں ہورہا ہے ۔ اس کے پیچھے ایک طویل تاریخ ہے ۔ حیدرآباد دراصل قدامت اور جدیدت کا اہم مرکز ہے ۔ ملک میں جو شہر اپنی تاریخ رکھتے ہیں قدیم تاریخی عمارتیں جن کی ایک شناخت ہے۔ ان میں بلا شبہ ہمارا شہر بھی شامل ہے ۔ یہاں صدیوں قدیم عمارتیں ، فن تعمیر کے شاہکار ، تالاب ، سڑکیں اور پل سبھی کچھ شامل ہے ۔ شہر کے ان قدیم عمارتوں کا کیا کہنا ، اتنی ہی تعریف یہاں کے پل اور دو راستوں کو ملانے والے راستے بھی شہرت رکھتے ہیں ۔ ان ہی میں شہر کا مسلم جنگ پل بھی شامل ہے ۔ مسلم جنگ پل کے ایک حصہ میں ایک 3’x5′ کی تختی بھی آویزاں ہے جس پر سن ، سال اور پل کی تعمیر کی تفصیل فارسی زبان میں کندہ ہے ۔ پل پر اس دور کی تعمیر کا نمونہ ہے اور خوبصورت عبارت والی تختی بھی اہم ہے ۔ تاریخ چھپی ہوئی ، لیکن اس تختی کو مٹانے اس کی عبارت کو دھندلانے کی اشرار مسلسل کوشش کررہے ہیں ۔ مسلم جنگ پل کی مختصر تاریخ یہ ہے کہ اس کی تعمیر اسلامی کیلنڈر کے مطابق 21 شوال 1318 ہجری میں ہوئی دکن کے نظام ششم میر محبوب علی خاں کے دور میں ہوئی تھی ۔ انگریزی کیلنڈر کے مطابق یہ کارخیر 1901 میں ہواتھا ۔ گویا زائد از ایک صدی کا عرصہ ہوگیا ۔ تعمیر کی نگرانی نواب غالب الملک نے کی تھی ۔ یہ وہ دور تھا جب کہ مہاراجہ کشن پرشاد مدار المہام تھے ۔ پل کی تعمیر کے بعد 15 محرم 1391 ھ کو شام 5 بجے اعلیٰ حضرت حضور نظام کے ہاتھوں افتتاح ہوا تھا ۔ پل کی تعمیر سے پرانا شہر سے بیگم بازار آنے جانے والوں کو بہت آسانی ہوتی ہے ۔ اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ پل کی تختی کو مسخ کرنے کی ہر ممکن کوشش مسلسل کی جارہی ہے ۔ گذشتہ چند دنوں سے تختی پر گوبر پوتنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے ۔ جو شرپسند ایسی کوشش کررہے ہیں ان سے تو شکایت ہے ہی لیکن ان سرکاری عہدہ داروں اور متعلقہ محکموں سے سخت شکایت ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے تاریخ کو مٹانے کی کوشش دیکھ کر بھی خاموش ہیں ۔ گویا تختی کو مٹانے کی اس کوشش میں سرکاری محکمے اور عہدہ دار بھی شامل ہیں ۔ ایسی کوشش بھی نئی نہیں ہے ۔ چند سال قبل بھی ایسی ہی کوشش کی گئی تھی لیکن شرفاء حیدرآباد نے اس کو رکوا دیا تھا ۔ شرپسند ایک منصوبے کے تحت تختی پر گوبر پوتتے ہیں ۔ تہہ در تہہ گوبر پوتنے کے بعد اس کو سوکھنے دیا جاتا ہے ۔ کچھ دن بعد اس پر (OIL) لگایا جاتاہے تاکہ یہ کندہ حروف پر جم جائے ۔ ایسا کرنے سے یہ حروف دب جائیں گے ۔ تختی اور ساری عبارت مسخ ہوجائے گی ۔ مستقبل کی نسلوں کو یہ معلوم بھی نہ ہوسکے گا کہ کن حکمرانوں نے مسلم جنگ پل تعمیر کیا تھا ۔ اس ناپاک کوشش کا مقصد یہی ہے کہ آئندہ کی نسل کو علم نہ ہوسکے کہ کس طرح نظام دکن نے شہر کو ایک صدی پہلے ترقی دی تھی ۔ رعایا کی سہولت کا انہیں کس قدر خیال تھا ۔ تاریخ ، عمارتیں ، پل اور راستے ہی ہماری تہذیب و ثقافت کے ثبوت ہوتے ہیں ۔ یہ جیتے جاگتے نمونے صدیوں قائم رہتے ہیں ۔ مسلم جنگ پل کی تاریخی تختی کو مٹانے والے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ تاریخ کو مٹادیں گے ۔ آئندہ نسل کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ مسلم جنگ پل اور کئی مقامات کو کس طرح دکن کے مسلم حکمرانوں نے بنایا تھا ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ایک باقاعدہ حکومت اور باقاعدہ محکمہ جات جیسے آثار قدیمہ کے ہوتے ہوئے ہر دن ایسی کوششیں ہوتی ہیں ۔ آخر محکمہ بلدیہ پولیس اور آرکیالوجی ڈپارٹمنٹ کیوں آنکھ اور کان بند کئے ہوئے ہے ۔ اس خاموشی اور بے حسی کے نتیجہ میں کہیں ایسا نہ ہو کہ اشرار اپنی ناپاک سازش میں کامیاب ہو جائیں اور ہم کف افسوس ملتے رہ جائیں ۔ یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ خواب غفلت سے جاگیں متعلقہ محکموں کو حرکت میں لاکر مسلم جنگ پل کی حفاظت کریں ۔ اس پل پر بہت عرصہ سے شرپسندوں کی نظر ہے ۔ کچھ برس پہلے مسلم جنگ پل کے سنگ تراشیدہ منڈیروں کا بھی سرقہ ہوا تھا ۔ اب تختی کو مسخ کر کے اس کو مٹانے پر بھی اگر خاموشی اختیار کی گئی تو یہ ایک ناقابل معافی جرم ہوگا ۔۔