تلنگانہ حکومت میں عملی اقدامات کا فقدان ، دیگر طبقات کو کئی سہولتیں
حیدرآباد۔14ڈسمبر ( سیاست نیوز) مسلمانوں کی معاشی و تعلیمی حالت سچر کمیٹی رپورٹ کے مطابق دلتوں سے ابتر ہوچکی ہے لیکن اس رپورٹ کے منظر عام پرآنے کے باوجود مسلمانوں کی حالت میں سدھار کیلئے عملی اقدامات کا ہر سطح پر فقدان نظر آتا ہے ۔ حکومت تلنگانہ نے نئی ریاست میں مسلمانوں کی حالت کو بہتر بنانے کیلئے مختلف اقدامات بالخصوص سچر کمیٹی رپورٹ و رنگاناتھ مشرا کمیشن رپورٹ پر من و عن عمل آوری کے اعلانات کئے تھے اورمسلمانوں کے سماجی وقار کو بحال کرنے کے تیقنات دیئے تھے ۔دلتوں سے ابتر مسلمانوں کی سماجی حالت کے متعلق سچر کمیٹی رپورٹ کے بعد مسلمانوں کو کم از کم دلت طبقات کے مساوی فلاح و بہبود کی اسکیمات میں شامل کیا جانا چاہیئے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ شیڈول کاسٹ کیلئے حکومت تلنگانہ کی جانب سے ایک اسکیم اعلیٰ تعلیم کیلئے روشناس کروائی گئی جس کے اعتبار سے شیڈول کاسٹ طبقہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو جو کہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے خواہشمند ہیں انہیں سرکاری طور پر 10لاکھ روپئے کی امداد فراہم کی جائے گی ۔ حکومت کی اس اسکیم کے لئے ضلع انتظامیہ حیدرآباد میں ایس سی طبقہ سے درخواستیں طلب کی ہیں جو طلبہ میڈیسن ‘ انجنیئرنگ ‘ فارمیسی ‘ نرسنگ ‘ سائنس ‘ ہیومانٹیز ‘ سماجیات کے علاوہ دیگر مضامین میں بیرونی جامعات بالخصوص امریکہ ‘ لندن ‘ آسٹریلیا ‘ کینیڈا اور سنگاپور میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہوں انہیں 10لاکھ روپئے مالیت فراہم کی جائے گی ۔ حکومت تلنگانہ اگر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی فلاح و بہبود کیلئے سنجیدہ ہے تو حکومت کو چاہیئے کہ وہ اس اسکیم میں مسلم نوجوانوں و طلبہ کو بھی شامل کریں یا پھر محکمہ اقلیتی بہبود کے ذریعہ اسی طرح کی ایک اور اسکیم روشناس کروائے تاکہ ریاست تلنگانہ کے مسلم نوجوانوں کی حکومت کی مالی اعانت کے ذریعہ عالمی سطح کی جامعات میں داخلہ حاصل کرتے ہوئے تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ میں معاونت کرے ۔ ریاست کے ایس سی طبقات جن کی خاندانی آمدنی سالانہ دو لاکھ سے کم ہو اور گریجویشن میں ان کے اعلیٰ نشانات ہو انہیں حکومت نے 10لاکھ روپئے تک کہ مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس منصوبہ کے عملی جامہ پہنانے کی ذمہ داری محکمہ ترقیات برائے شیڈول کاسٹ کو تفویض کی گئی ہے ۔ اگر حکومت کی جانب سے اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے ذہین طلبہ کو 10لاکھ روپئے تک کی مالی اعانت کا منصوبہ روشناس کروایا جاتا ہے تو ایسی صورت میں کئی نوجوان جو کہ معاشی پسماندگی کے باعث سلسلہ تعلیم ترک کرنے پر مجبور ہورہے ہیں انہیں بہترین مواقع میسر آئیں گے اور وہ بیرون ملک جامعات میں اپنی تعلیم کے حصول کے ذریعہ اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھاسکتے ہیں ۔ حکومت تلنگانہ بالخصوص محکمہ اقلیتی بہبود کو اس سلسلہ میں توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایس سی طبقات کے لئے جاری اس اسکیم کے طرز پر مسلم نوجوانوں کیلئے اسکیم کا آغاز کرے تاکہ حکومت کی جانب سے مختص کردہ اقلیتی بہبود کے بجٹ کو مالی سال کے اختتام سے قبل خرچ کرنے میں ہونے والی امکانی دشواریوں سے بچاجاسکے ۔ حکومت اگر فوری طور پر اس منصوبہ پر غور کرتے ہوئے مسلم نوجوانوں کیلئے اس طرح کی اسکیم روشناس کرواتی ہے تو عالمی جامعات میں شروع ہونے والے تعلیمی سال میں مسلم نوجوانوں کے داخلوں کو بتوسط حکومت یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔