مسلمانوں کی ترقی کیلئے عصری تعلیم کی منصوبہ بندی ضروری

تلنگانہ کے مسلمان انتہائی پسماندہ، پروفیسر کانچہ ایلیا

حیدرآباد۔16مارچ(سیاست نیوز) نئی ریاست تلنگانہ میں مسلم سماج کو ماڈرن تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے درکار حکمت عملی متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں استحصال کا شکار مسلمانوں کی اندر اعتماد کی بحالی کا بہترین ذریعہ ثابت ہوگی یہ بات سماجی جہدکارپروفیسر کانچہ ایلیا نے یہ بات بتائی۔ انہوں نے مزید کہاکہ مسابقت کے اس دور میں ماڈرن تعلیم سے محروم مسلمانوں کے اندر احساس کمتری میںاضافہ ہوتا جارہا ہے جس کودور کرنے کے لئے تلنگانہ کے دس اضلاع میںگائو ں سے لیکر شہر کی گلیوں تک ماڈرن تعلیم کی مفت فراہمی لازمی ہے۔پروفیسر کانچہ ایلیانے نئی ریاست تلنگانہ میں مسلم ‘ عیسائی ‘ دلت‘ قبائیلی اور پچھڑے طبقات کے اتحاد کو بھی ضروری قراردیا تاکہ تلنگانہ کے سیاسی میدان میں ایک نئی سیاسی صف بندی کے ذریعہ مذکورہ طبقات سے حکمران تیار کئے جاسکے۔پروفیسرکانچہ ایلیا نے ریڈی‘ رائو‘ ویلمہ طبقہ کی غیر معمولی اجارہ داریوں سے تلنگانہ ریاست میں مسلمانوں کے بشمول دیگر اقلیتی و پسماندہ طبقات کے ساتھ استحصال جاری رہنے کے خدشات کا اظہارکیا انہوںنے کہاکہ تلنگانہ میںنوے فیصد کے قریب مسلمان‘ عیسائی ‘ دلت ‘قبائیلی اور دیگر پسماندہ طبقات ہیں جن کے ساتھ کبھی انصاف نہیں ہوا مگر علیحدہ ریاست تلنگانہ میںمذکورہ طبقات کا اتحاد ایک نئے سیاسی انقلاب کا نقیب ثابت ہوگا جس کے ذریعہ سماجی مساوات کا فروغ بھی یقینی ہے۔ مسٹر کانچہ ایلیا نے تلنگانہ کے ہندو اور مسلمانوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کا بھی مفاد پرست آندھرائی قائدین پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ اقتدارکے حصول اور چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے آندھرائی حکمرانوں نے علاقہ تلنگانہ کے مسلمان اور ایس سی‘ ایس ٹی‘ بی سی میںنفرت پھیلانے کاکام کیا ۔

انہوں نے کہاکہ تلنگانہ کے مسلمانوں کے اندر پائے جانے والے احساس کمتری اور مرکزی وریاستی حکومتوں کے وعدوں پر عدم اعتماد کی وجہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کی نگرانی میںہوئے پولیس ایکشن جو دراصل آرمی ایکشن تھا اس کے بعد مختلف مواقع پر پیش آئے فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمانوں کا جانی و مالی نقصان ہوا جس کے سبب مسلمانوں کے اندر بڑے پیمانے پر احساس کمتری پیدا ہوئی جس کو دور کرنے کے لئے صنعتوں کا قیام عمل میںلایا جائے جس کے ذریعہ مسلمانوں کو نہ صرف روزگار کے مواقع مل سکیں بلکہ مسلمانوں کی معیشت میں بھی سدھار لیا جاسکے۔پروفیسر کانچہ ایلیا نے کہاکہ مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے سرکاری ملازمتوں کے بشمول دیگر شعبوں میں بھی دستور کی گنجائش کے مطابق مواقع فراہم کئے جاہیں تاکہ تلنگانہ ریاست کی ترقی کیساتھ ساتھ مسلمانوں کی ترقی کو بھی یقینی بنایا جاسکے ۔ انہوں نے متحدہ ریاست آندھرا پردیش سے قبل تلنگانہ میںمسلمانوں کے موقف کی بحالی کے لئے مسلمانوں کو سرکاری شعبوں ‘ صنعتی اداروں اور تعلیمی میدان میں آبادی کے تناسب سے مواقع کو لازمی قراردیا۔

انہوں نے نئی ریاست میں مسلم‘ عیسائی‘ ایس سی‘ ایس ٹی‘ بی سی کے لئے نئی سیاسی صف بندی کو سنہری تلنگانہ کی تشکیل میں مددگار بتایا اور کہاکہ نئی ریاست میں ریڈی‘ رائو‘ اور دیگر اعلی ذات والوں کے بجائے اقتدار کی باگ ڈور بھی مذکورہ نئی سیاسی صف بندی کے علمبرداروں کے ہاتھوں میںرہے گی جو مسلمانوں کے بشمول دیگر اقلیتی طبقات اور ایس سی‘ ایس ٹی ‘ بی سی طبقات کی تمام شعبوں میںحصہ داری کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔
دفتر سیاست میں اُردو کلاس کا انعقاد
حیدرآباد 16 مارچ (راست) دفتر روزنامہ سیاست عابڈس میں بروز اتوار اُردو کلاس منعقد ہوئی۔ بلا لحاظ مذہب و عمر طلباء و طالبات نے اس کلاس سے استفادہ کیا اور ’’سات روز میں اُردو سیکھئے‘‘ کتاب کی ستائش کی۔ انگریزی سے اُردو ترجمے کی مشق بھی کروائی گئی۔ آئندہ کلاس 23 مارچ کو ایک بجے تا 5 بجے ہوگی۔ ڈاکٹر صبیحہ نسرین کلاس لیں گی۔