حیدرآباد۔26فبروری(سیاست نیوز) مجوزہ ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے علیحدہ سب پلان کا اعلان مسلم اقلیت کی حالت زار کو تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوگی معروف مورخ و سماجی جہدکار وکنونیر تلنگانہ ہسٹری سوسائٹی مسٹر سنگی شیٹی سرینواس نے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی۔ انہو ں نے کہاکہ پولیس ایکشن کے نام پر تلنگانہ کے مسلمانوں کو معاشی اور تعلیمی پسماندگی کا شکار بنانے میں آندھرائی حکمرانوں نے ہر قسم کی سازش کا سہارا لیا۔انہوں نے مزید کہاکہ مختلف قوانین کے تحت مسلمانوں کو اراضیات سے محرو م کرنے کاکام بھی کیا اس کے علاوہ مسلمانوں کوتلگوسے عدم واقفیت کے نام پر ملازمتوں سے محروم کیا گیا جس کا راست اثر مسلمانوں کی معیشت پر پڑا ۔ آصف جاہ صابع کی جانب سے دی گئی لاکھوں ایکڑ اراضی کے لئے علاقہ تلنگانہ کی لاکھوں ایکڑ وقف اراضی کو بھی آندھرا ئی حکمرانوں اور سرمایہ داروں نے ہڑپ لیاغرض کہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے قیام کاراست نقصان علاقہ تلنگانہ کے مسلمانوں کو ہوا ۔ انہوں نے کہاکہ اُردو سے تعصب کا بھی عمل متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے قیام بعد ہی شروع ہوا ۔
مسٹر سرینواس نے کہاکہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے قیام سے قبل علاقہ تلنگانہ میںاُردوزبان کا بول بالا تھا۔ناصرف مسلمان بلکہ ہندو اور دیگر ابنائے وطن کا شمار بھی اُردو داں طبقہ میں ہوتاتھا مگر ریاست آندھرا پردیش کے قیام کے بعدمنظم انداز میںاُردو کو ختم کیا گیا ۔ انہوں نے اُردو کو روزگار سے جوڑتے ہوئے اُردو داں طبقہ کے ساتھ انصاف کو ضروری قراردیا ۔ نئی ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے تحفظات کی فراہمی کو ضرور ی قراردیا تاکہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے قیام میں مسلمانوں کی ساتھ کی گئی ناانصافیوں کو دور کیا جاسکے۔ انہوں نے مسلمانوں کو تمام شعبے حیات میںآبادی کے تناسب سے تحفظات کو لازمی قراردیا اور کہاکہ بالخصوص سیاست میں مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے پندرہ فیصد تحفظات فراہم کرنے سے مسلمانو ںکے ساتھ انصاف ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ تلنگانہ تحریک کے دوران تلنگانہ راشٹرایہ سمیتی نے مسلمانو ںکو تمام شعبہ حیات میں بارہ فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا جس پر عمل آوری بھی ٹی آر ایس قائدین کی ذمہ داری ہے انہوں نے مزید کہاکہ ناصرف ٹی آر ایس بلکہ تلنگانہ میں سرگرم تمام سیاسی جماعتیں انتخابات سے قبل ہی اس با ت کا اعلان کریں کہ وہ مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے تمام شعبوں میں تحفظات فراہم کریں ۔ انہو ںنے ایوان اسمبلی اور پارلیمنٹ میں تلنگانہ کے مسلمانوں کی آبادی کے تناسب سے نمائندگی کو تلنگانہ میںمسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ناانصافی کا یقینی طور پر خاتمہ قراردیا۔انہوں نے تلنگانہ کے دانشواروں کے ساتھ ملکر تلنگانہ میںمسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے تحفظات کی فراہمی کے لئے تحریک چلانے کا بھی اعلان کیا۔