حیدرآباد۔12مارچ(سیاست نیوز)ریاست حیدرآباد کے آخری حکمران اور ریاستی انتظامیہ کے تمام عہدیداروں کو ترقی پسند ذہنیت کا حامل قراردیتے ہوئے پروفیسر چکارامیہ سابق رکن قانون ساز کونسل نے کہاکہ شہر حیدرآباد کی ترقی آصف جاہ سابع اور ان کے ریاستی انتظامیہ کی مرہون منت ہے جنھوں نے بادشاہی دور میں بھی جمہوری نظام قائم کرتے ہوئے نہ صرف اپنی ریاست کوترقی یافتہ بنانے کاکام کیا بلکہ تمام طبقات کو ترقی کے یکساں مواقع بھی فراہم کئے۔مسٹر چکارامیہ نے کہاکہ بیرونی ممالک کا دور ہ کرتے ہوئے وہاں کی عوام کو حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی فلاحی اسکیمات سے واقفیت حاصل کرنا اور مذکورہ اسکیمات کو ریاست حیدرآباد میںلاگو کرتے ہوئے اپنی رعایہ کو سہولتیں فراہم کرنے کا کام صرف آصف جاہی دور حکومت میںانجام دیا گیا۔
انہوں نے مفت طبی وتعلیمی سہولتوں کی اس موقع پر تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہاکہ آصف جاہی دور حکومت میںہی ریاست حیدرآباد میںعالیشان عمارتوں میںطبی اورتعلیمی مراکز قائم کئے گئے جہاں سے عوام نے مفت استفادہ کیا ۔انہوں نے آصف جاہی دور حکومت کے اُردو داں طبقے کے ساتھ ہوئی ناانصافیوں کا بھی اس موقع پرذکر کرتے ہوئے کہاکہ نہ صر ف مسلمان بلکہ تلنگانہ کے غیرمسلم افراد کا بھی تعلق اُردود اں طبقہ سے تھا جنھیں متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے قیام کے بعد زبان کی بنیاد پر سرکاری ملازمتوں سے محروم کرنے کاکام کیا گیا۔مسٹر چکارامیہ نے آصف جاہی دور حکومت میں قائم کردہ صنعتی اداروں کی بھی اس موقع پرتفصیلا ت پیش کرتے ہوئے کہاکہ پراگاٹولس ‘ آلوین ‘ نظام شوگر فیکٹری جیسے بڑی صنعتی ادارے ریاستی انتظامیہ کی نگرانی میں قائم کرنا اور مقامی عوام کو اس میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کاکارنامہ بھی ساتویں نظام نے انجام دیا۔مگر 1945کے بعد ریاست حیدرآباد کے انڈین یونین میں شامل ہونے اور 1956میں ریاست آندھرا پردیش کے قیام کے بعد آصف جاہی دور کے فلاحی اورترقیاتی کاموںکے سلسلہ کو جاری رکھنے میںریاستی انتظامیہ کی ناکامی ریاست حیدرآباد بالخصوص علاقہ تلنگانہ کی عوام کے ساتھ ناانصافیوں اور حق تلفی کا آغاز ثابت ہوئی۔مسٹر چکارامیہ نے کہاکہ ریاست حیدرآباد کو انڈین یونین میں شامل کرنے کا مقصد انضمام اور ہم آہنگی تھا مگر متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے قیام کے بعد آندھرا ئی حکمرانوں کے طرز عمل سے ایسا محسوس ہورہا تھا آصف جاہی دور کے بعد ایک اور دوسرے خطہ کے لوگوں کی حکمرانی کا دور ریاست حیدرآباد خاص طور پر علاقہ تلنگانہ میں شروع ہوگیا ہے
اور اس دور میں ہوئی ناانصافیوں ‘ حق تلفیوں کے پیش نظر ہی علیحدہ ریاست تلنگانہ تحریک کا عملی آغاز ہوا۔انہوں نے آندھرائی حکمرانوں کی غیر جمہوری ذہنیت کو ریاست حیدرآباد کو انڈین یونین میں شامل کرنے کے مقاصد کے عین خلاف قراردیتے ہوئے کہاکہ سب سے پہلے آندھرائی حکمرانوں نے اُردو زبان کے ساتھ کھلواڑ کیا جو ریاست حیدرآباد کی سرکاری زبان تھی ۔ انہوں نے کہاکہ جسٹس راجندر سنگھ سچر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر کہاکہ مسلمانوں کی حالت زار میں تبدیلی کے لئے مسلمانوں کو تمام شعبہ حیات میں آبادی کے تناسب سے نمائندگی لازمی ہے لہذامجوزہ ریاست تلنگانہ میں برسراقتدار آنے والی سیاسی جماعت پر یہ ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے کہ وہ مسلمانوں میں پائے جانے والے احساس کمتر ی کو دور کرنے کے لئے مسلمانوں کو تمام شعبہ حیات بشمول سیاسی شعبوں میںآبادی کے تناسب سے نمائندگی کے مواقع فراہم کرے ۔تاکہ مستقبل کے سنہری تلنگانہ اور قدیم ریاست حیدرآباد کی تہذیب کا احیاء کیا جاسکے جو ساری دنیا کے لئے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کی ایک مثال تھی۔