مسلمانوں کو تحفظات کیلئے قانونی رائے طلبی

ممبئی ۔ 11 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا کے چیف منسٹر دیویندر فرنویس نے آج اپوزیشن جماعتوں پر الزام عائد کیا کہ وہ مسلمانوں کو تحفظات کے مسئلہ پر ووٹ بینک سیاست میں ملوث ہورہی ہیں اور کہا کہ اقلیتی طبقہ کو کوٹہ کی فراہمی کیلئے آرڈیننس کی اجرائی کے بارے میں ان کی حکومت قانونی رائے حاصل کررہی ہے۔ مسٹر فرنویس نے ریاستی اسمبلی میں آج کہا کہ ’’تحفظات کا مسئلہ ہنوز عدالتوں میں زیردوران ہے اور صرف عبوری حکم جاری کیا گیا ہے۔ اس مقدمہ میں تاحال کسی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو اقلیتی طبقہ سے ان کے ووٹوں کے سواء اور کسی چیز سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ مسٹر فرنویس نے دریافت کیا کہ یہ جماعتیں اس وقت کیا کررہی تھیں جب ریاست کی اوقافی جائیدادیں غیرقانونی طور پر خانگی اداروں کی دی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کے سوال پر ان کی حکومت قانونی رائے طلب کررہی ہے۔ اس مسئلہ پر ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلے اس مسئلہ پر اکثر متضاد رہے ہیں۔ مسٹر دیویندر فرنویس نے کہا کہ ان کی حکومت یہ واضح کرچکی ہیکہ مسلم طلباء جو تحفظات کوٹہ کے تحت داخلے حاصل کرچکے ہیں، اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔

اقلیتی طبقہ کے طلبہ پہلے ہی سات فیصد نشستوں پر داخلے حاصل کرچکے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر رادھا کرشنا وکھے پاٹل نے تحریک التواء کے ذریعہ یہ مسئلہ اٹھایا تھا، جس پر ایوان میں تلخ بحث ہوئی اور ایوان کی کارروائی کچھ دیر کیلئے ملتوی کرنا پڑا۔ وکھے پاٹل نے کہا کہ ہائیکورٹ پہلے ہی پانچ فیصد تحفظات کو جائز قرار دے چکی ہے اور حکومت کو چاہئے کہ وہ اس مسئلہ پر قانون سازی کرے۔ وزیر مال ایکناتھ کھڈسے نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ آخر کیا وجہ تھی کہ کانگریس اور این سی پی نے مسلمانوں کو تحفظات دینے کی ضرورت اس وقت کیوں محسوس نہیں کی جب وہ برسراقتدار تھے۔ اس دوران کانگریس کے محمد عارف نسیم نے چیف منسٹر کی مذمت کی اور الزام عائد کیا کہ مسٹر فرنویس نے کہا تھا کہ مسلمانوں کیلئے تحفظات غیردستوری ہیں۔ عارف نسیم نے سوال کیا کہ ہائیکورٹ کے جسٹس نے مراٹھا کوٹہ منسوخ کرتے ہوئے مسلم تعلیمی کوٹہ کو برقرار رکھا تھا۔