سرینگر ۔23اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) علحدگی پسند لیڈر مسرت عالم بھٹ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کو تیز کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے حکام نے اُن کے خلاف عوامی سلامتی قانون کا سخت ترین دفعہ لگاتے ہوئے جیل منتقل کیا ہے ۔ وہ وادی کی جیل سے جموں کی جیل منتقل کئے گئے ہیں ۔ عوامی سلامتی قانون کے تحت گرفتار شخص کو مقدمہ کے بغیر کم از کم 6ماہ تک جیل میں رکھا جاسکتا ہے ۔ مسرت عالم کو گذشتہ ماہ پی ڈی پی زیر قیادت حکومت نے اسی قانون کے تحت جیل میں چار سال گزارنے کے بعدرہا کیا تھا اور 7اپریل کو ملک کے خلاف جنگ کرنے اور غداری جیسے اقدامات عائد کرتے ہوئے دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا ۔ انہوں نے سخت گیر حُریت کانفرنس لیڈر سید علی شاہ گیلانی کیلئے نکالی گئی ریالی کے دوران قوم دشمن نعرے لگائے تھے اور پاکستانی پرچم کو لہرایا تھا ۔ مسرت عالم کو قانون عوامی سلامتی کے تحت گرفتار کیا گیا تھا ۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بڈگام الطاف احمد میر نے کہا کہ بھٹ کو کوتھ بہلول جیل منتقل کیا گیا ہے ۔ 45سالہ سخت گیر لیڈر کو ان کی گرفتاری کے بعد 7روزہ پولیس تحویل بھی دیا گیا تھا ۔ انہوں نے چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ بڈگام کے سامنے اپیل دائر کی تھی اور ان پر عائد مقدمہ کی سماعت پر زور دیا تھا ۔