مسئلہ فلسطین پر عالمی برادری اور عرب ممالک کی بے حسی افسوسناک

قبلہ اول کا تقدس پامال کرنے اسرائیل کا سازشی منصوبہ ، انڈوعرب لیگ کے جلسہ سے خطیب مسجد الاقصیٰ کا خطاب

حیدرآباد ۔ 20جون ۔ ( سیاست نیوز) دنیا اپنی مصروفیات میں اس قدر مصروف ہوچکی ہے کہ اُسے اس بات کا احساس ہی نہیں رہا کہ خطہ زمین پر ایک ملک آج بھی اپنی آزادی کی جدوجہد کررہا ہے اور وہ واحد مملکت ہے جو غلامی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہے ۔ مفتی آعظم فلسطین فضیلت الشیخ مولانا محمد احمد حسین نے آج انڈو عرب لیگ کے زیراہتمام منعقدہ یوم فلسطین جلسہ عام سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ انھوں نے بتایا کہ فلسطین واحد ایسی مملکت ہے جو غلامی اور پابندیوں کے ساتھ زندگی گذارنے پر مجبور ہے ۔ فلسطینی عوام غاصب اسرائیلی فوج کے حصار میں اپنی مرضی سے حمل و نقل کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ ان مظلوموں کی حمایت کیلئے عالمی سطح پر انسانی حقوق کی بات کرنے والے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ مفتی اعظم فلسطین نے بتایا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران 300 سے زائد فلسطینی جام شہادت نوش کرچکے ہیں لیکن دنیا اس جانب توجہ مبذول نہیں کرتی ۔ انھوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 57 یوم سے جیلوں میں فلسطینی قیدی بھوک ہڑتال کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود کسی ملک کا حکمراں یا ذرائع ابلاغ ادارے یہ جاننے کی کوشش نہیں کررہے ہیں کہ آخر فلسطینی قیدی کیوں اتنے لمبے عرصہ سے بھوک ہڑتال کررہے ہیں ۔ فضیلت الشیخ محمد احمد حسین نے بتایا کہ مسجد اقصیٰ و فلسطین کے ماضی سے دنیا واقف ہے ۔ واقعہ معراج مسجد اقصیٰ کے تقدس کیلئے کافی ہے۔ سیرت و سنت کی کتابوں کے علاوہ قرآن و تاریخ اسلام میں بھی مسجد اقصیٰ کی حرمت کا تذکرہ موجود ہے۔

اس کے باوجود اسلامی دنیا کی جانب سے مسجد اقصیٰ و القدس کو نظرانداز کیا جانا ناقابل فہم ہے۔ انھوں نے مسجد اقصیٰ کی حفاظت مسلمانوں کے عقیدہ و ایمان کا حصہ ہے لیکن اس کے علاوہ مسئلہ القدس و فلسطین رسالتؐ و نبوتؐ پر یقین رکھنے والوں کے ساتھ ساتھ انسانیت کی بات کرنے والوں کا بھی مسئلہ بن چکا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اہل ایمان کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ حرمین شریفین کے بعد مسجد الاقصیٰ واحد ایسی جگہ ہے جہاں عبادت کی نیت سے سفر کرنے کی گنجائش دین میں موجود ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ 15 نومبر 1988 ء کو مملکت فلسطین کو تسلیم کرنے کے بعد کے حالات دنیا کے سامنے ہیں۔ تاریخ کے حوالوں سے انھوں نے کہا کہ تعمیر مسجد اقصیٰ کے بعد سے کبھی مسجد اقصیٰ میں آتشزنی کا واقعہ پیش نہیں آیا تھا لیکن اسرائیلی تسلط کے بعد اندرون دو سال اسرائیلیوں نے اس مقدس مسجد کو نذ ر آتش کرنے کی کوشش کی۔ فضیلت الشیخ نے بتایا کہ مسجد اقصٰی کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں تاریخی و تہذیبی شواہد و آثار کے حصول کے نام پر بڑے پیمانے پر سرنگیں کھودی جارہی ہیںجوکہ مسجد اقصیٰ کی عمارت کیلئے خطرہ کا باعث ثابت ہوسکتی ہیں۔ انھوں نے ہند ۔ فلسطین تعلقات کو مزید مضبوط و بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد میں مسجد اقصیٰ اور فلسطین کیلئے اپنے دلوں میں تڑپ رکھنے والوں کو دیکھ کر انھیں بے انتہا مسرت ہوئی۔ انھوں نے اس موقع پر صدر انڈو عرب لیگ جناب سید وقار الدین قادری ایڈیٹر انچیف روزنامہ رہنمائے دکن سے اظہارتشکر کرتے ہوئے کہا کہ آزادی فلسطین کے لئے جاری یہ تحریک انشاء اﷲ ضرور کامیاب ہوگی ۔ جناب سید وقارالدین قادری نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران کہا کہ منموہن سنگھ کے دور حکومت میں جس انداز سے اسرائیل کی ہندوستان میں پذیرائی کی اس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی ۔ انھوں نے بتایا کہ بعض عرب ممالک کا رویہ بھی یہودیوں سے بدتر ہوچکا ہے اور وہ مسئلہ فلسطین پر خاموشی اختیار کرتے جارہے ہیں ۔ جناب سید وقارالدین قادری نے بتایا کہ فلسطین فی الحال تاریخ کے بدترین دور سے گذر رہا ہے جہاں برقی و آبرسانی کی سربراہی مسدود کردی گئی ہے ۔ فلسطینی مسلمانوں کے آزادانہ گھومنے پھرنے پر پابندی عائد ہے ۔

انھوں نے بتایا کہ ہندوستان کے اسرائیل سے بڑھتے تعلقات کے سلسلے میں انڈو عرب لیگ کی جانب سے بہت جلد ایک حکمت عملی تیار کرتے ہوئے وزیراعظم ہند نریندر مودی سے ملاقات کی جائے گی اور انھیں حقائق سے آگاہ کرواتے ہوئے اسرائیل سے تعلقات میں مزید استحکام نہ پیدا کرنے کی خواہش کی جائے گی ۔ انھوں نے بتایا کہ مسجد اقصیٰ ہمارے ایمان ، عقیدے اور جذبہ کا معاملہ ہے۔ قبلۂ اول کے مسئلے پر مسلمان کوئی سمجھوتہ نہیں کریںگے ۔ اس موقع پر مولانا حافظ پیر شبیر احمد رکن قانون ساز کونسل و صدر جمعیۃ العلمائے ہند آندھراپردیش ، سفیر فلسطین متعینہ ہند عدلی حسن صادق شعبان ، رکن پارلیمنٹ فلسطین جناب عبداﷲ عبداﷲ ، جناب محمد ادیب ، جناب خلیق الرحمن ، ڈاکٹر میر اکبر علی خان کے علاوہ دیگر بھی موجود تھے ۔ جنھوں نے اس احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کیا۔ جلسہ کے شرکاء میں مولانا نصیرالدین ، جناب محمد اظہرالدین ، جناب منیرالدین مجاہد ، جناب خالد رسول خان ، جناب عثمان بن محمد الہاجری،جناب یوسف ہاشمی ، جناب جابر پٹیل کے علاوہ دیگر موجود تھے ۔