مرکز کے پری و پوسٹ میٹرک اور میٹرک کم منس اسکالر شپس

رقومات کی اجرائی میں تیزی ، نئی درخواستیں و تجدیدی تواریخ کا اعلان
حیدرآباد۔/21اگسٹ، ( سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی پری میٹرک، پوسٹ میٹرک اور میرٹ کم منس اسکالر شپ برائے سال 2013-14کے سلسلہ میں اقلیتی فینانس کارپوریشن نے تاحال 53کروڑ 43لاکھ روپئے جاری کردیئے ہیں جو کہ 2لاکھ 5ہزار 72 طلبہ میں تقسیم کئے گئے۔ اس طرح مرکزی حکومت کی اسکالر شپ کی رقومات کی اجرائی میں تیزی پیدا ہوگئی ہے۔ مرکزی حکومت نے 2013-14کیلئے 3لاکھ 55ہزار 747 طلبہ کو اسکالر شپ کی اجرائی کا نشانہ مقرر کیا تھا جس کے لئے 99کروڑ 7لاکھ روپئے مختص کئے گئے تھے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن مزید 46کروڑ روپئے کی اجرائی کے سلسلہ میں تیزی سے اقدامات کررہا ہے۔ منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن پروفیسر ایس اے شکور نے بتایا کہ گذشتہ تعلیمی سال کیلئے پری میٹرک اسکالر شپ کے تحت 3لاکھ 34ہزار 949 طلبہ کیلئے 83کروڑ 19 لاکھ روپئے منظور کئے گئے تھے جس میں ایک لاکھ 7716 طلبہ میں 49کروڑ 83لاکھ روپئے ابتک جاری کردیئے گئے۔ پوسٹ میٹرک اسکالر شپ کے تحت 19306 طلبہ کیلئے 12کروڑ 36لاکھ روپئے منظور کئے گئے۔ تاحال فینانس کارپوریشن نے 6513 طلبہ میں 4کروڑ 35لاکھ روپئے جاری کردیئے ہیں۔ میرٹ کم منس اسکالر شپ کے تحت 1492طلبہ کیلئے 4کروڑ 25لاکھ روپئے کا نشانہ مقرر کیا گیا تھا اور کارپوریشن نے اس نشانہ کی تکمیل کرلی ہے۔تعلیمی 2014-15 کیلئے مرکزی حکومت کی اسکالر شپ کے سلسلہ میں درخواستوں کے ادخال کی تواریخ کا اعلان کردیا گیا ہے اور طلبہ کی جانب سے نئی درخواستیں اور تجدید کے سلسلہ میں آن لائن خانہ پُری کا آغاز ہوچکا ہے۔ پری میٹرک اسکالر شپ کے تحت تازہ اور تجدیدی درخواستوں کے ادخال کی آخری تاریخ 10ستمبر مقرر کی گئی ہے جبکہ پوسٹ میٹرک اسکالر شپ کے تحت نئی درخواستیں 15ستمبر اور تجدیدی درخواستیں 10اکٹوبر تک داخل کی جاسکتی ہیں۔ میرٹ کم منس اسکالر شپ کے تحت نئی درخواستیں 30ستمبر تک داخل کی جاسکتی ہیں جبکہ تجدیدی درخواستیں 15 نومبر تک آن لائن داخل کی جاسکتی ہیں۔ جو طلبہ کورس کے سلسلہ میں گذشتہ سال اسکالر شپ حاصل کرچکے ہیں انہیں تجدیدی درخواست داخل کرنی ہوگی جبکہ نئے کورس میں شامل ہونے والے طلبہ نئی درخواست کے طور پر داخل کریں گے۔ پروفیسر ایس اے شکور نے بتایا کہ طلبہ کی رہنمائی کے سلسلہ میں اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ایکزیکیٹو ڈائرکٹرس کے دفاتر میں خصوصی سیل قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ ایسے نام نہاد اداروں کا شکار نہ ہوں جو اسکالر شپ کی منظوری کا تیقن دے کر رقومات حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔