ویلفیر پارٹی آف انڈیا کی غریب بچاؤ دیش بچاؤ مہم، قومی صدر قاسم رسول الیاس و دیگر کا خطاب
حیدرآباد 24 مئی (سیاست نیوز) قومی صدر ویلفیر پارٹی آف انڈیا مسٹر قاسم رسول الیاس نے کہاکہ مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی حکومت بجائے جمہوری طرز حکومت کے ’’ہٹلر شاہی طرز حکمرانی‘‘ کی روش اختیار کرتے ہوئے سیاسی اختیارات کا بیجا استعمال کرتے ہوئے من مانی فیصلے صادر کررہی ہے جس کے نتیجہ میں ہندوستان بھر میں سیاسی عدم استحکام، بدامنی، ظلم و تشدد، فرقہ واری جنون، غریب اور متوسط طبقہ کے عوام بالخصوص مسلم اقلیتوں، دلتوں، کمزور اور پسماندہ طبقات کے حقوق کی پامالی کا دور دورہ ہے جس سے ملک کی سالمیت کو سنگین خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ وہ آج مرکزی و ریاستی حکومتوں کی مخالف عوام، کسان دشمن پالیسیوں کے خلاف ویلفیر پارٹی آف انڈیا کے زیراہتمام جاری غریب بچاؤ دیش بچاؤ مہم کے تحت اندرا پارک پر دھرنا پروگرام سے بحیثیت مہمان خصوصی مخاطب تھے۔ انھوں نے مرکزی حکومت پر الزام عائد کیاکہ وہ انتخابات سے قبل ملک کے عوام سے کئے گئے انتخابی وعدوں کو فراموش کرتے ہوئے مخالف عوام اور مخالف کسان پالیسیوں پر عمل پیرا ہے جس کے نتیجہ میں غریب اور متوسط طبقہ کے عوام اور کسان طبقہ بدحالی کا شکار ہے اور وہ سطح غربت سے بھی نچلی سطح پر کسمپرسی کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے جبکہ حکومت کارپوریٹ اداروں اور سرمایہ داروں کی پشت پناہی کررہی ہے۔ مرکزی حکومت نے اپنے دور حکومت کے اندرون ایک سال 8 ایسے آرڈیننس پاس کئے جو ملک اور عوام کے حق میں نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ قانون حصول اراضی سے متعلق جو آرڈینس پاس کیا ہے اس کے تحت کسانوں سے جبراً اراضی حاصل کرکے کارپوریٹ اور سرمایہ داروں کے حوالے کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ مرکز کی برسر اقتدار بی جے پی حکومت پر یہ بھی الزام عائد یاکہ وہ ملک میں ذات پات کی سیاست کرتے ہوئے ملک کے نظام تعلیم میں تبدیلی لاتے ہوئے نظام تعلیم کو زعفرانی رنگ دیتے ہوئے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب اور کلچر کی تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے ملک کو ’ہندو راشٹر‘‘ میں تبدیل کرنے کی مساعی کررہی ہے جو ایک انتہائی افسوسناک امر ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ بی جے پی کی محاذی بھگوا تنظیموں کی جانب سے ملک بھر میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلاتے ہوئے گھر واپسی کے نام پر مسلم اقلیتوں اور دلتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں ملک کی اقلیتیں بالخصوص مسلم اقلیتیں اپنے آپ کو غیر محفوظ متصور کررہی ہے۔ وزیراعظم ہند نریندر مودی بیرون ممالک کے دورے کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا رول ادا کررہے ہیں۔ مرکزی حکومت ہندوستان میں بیرونی کمپنیوں کو قائم کرکے ملک کی کمپنیوں کی معیشت کو تباہ کرنے کی سازش کررہی ہے جبکہ بیرونی کمپنیوں کے قیام سے کارپوریٹ اداروں اور سرمایہ داروں کو راست نفع حاصل ہوگا۔ ملک کے 10 فیصد سرمایہ دار افراد ملک کی 90 فیصد دولت پر قابض ہیں۔ اگر مرکز میں موجودہ برسر اقتدار بی جے پی حکومت کو مزید 4 سال تک حکمرانی کا موقع دیا جائے تو ملک میں صرف سرمایہ دار اور دولت مند افراد کو مزید دولت بٹورنے کے مواقع فراہم ہوں گے اور غریب اور متوسط طبقہ فاقہ کشی کا شکار ہوجائیں گے۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مرکز میں برسر اقتدار حکومت کی مخالف عوام، کسان دشمن اور غلط پالیسیوں کے خلاف ویلفیر پارٹی کے پرچم تلے جمع ہوجائیں۔ ویلفیر پارٹی آف انڈیا نے ملک کے موجودہ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ملک بھر میں ’’غریب بچاؤ ۔ دیش بچاؤ‘‘ مہم کا آغاز کیا۔ انھوں نے حکومت تلنگانہ کو بھی اپنی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس موقع پر صدر تلنگانہ مسٹر سید شفیع اللہ قادری نے تلنگانہ میں مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی زیرقیادت برسر اقتدار ٹی آر ایس حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ حکومت ریاست کے مسلم اقلیتوں کے مفادات کے تحفظ میں ناکام ہوگئی ہے۔ انھوں نے کے سی آر پر الزام عائد کیاکہ وہ انتخابات سے قبل مسلم اقلیتوں کو 12 فیصد تحفظات، اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے علاوہ مسلم اقلیتوں کے جان و مال، عزت و آبرو کے تحفظ کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ اقتدار پر آتے ہی اقلیتوں سے کئے گئے وعدوں کو فراموش کرچکے ہیں۔ جبکہ ٹی آر ایس کے اقتدار کا ایک سال مکمل ہوچکا ہے تاہم چیف منسٹر مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی اور اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں ناکام ہوچکے ہیں۔ انھوں نے ریاست تلنگانہ میں مسلم اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے پولیس ظلم پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیاکہ وہ آلیر فرضی انکاؤنٹر واقعہ کی سی بی آئی یا برسر خدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کروائے اور خاطی پولیس عہدیداروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ اس موقع پر نائب صدر تلنگانہ مسٹر وسیم الدین، سکریٹری مسٹر کمال اطہر، سٹی کنوینر مسٹر عقیل احمد، آرگنائزنگ سٹی سکریٹری مسٹر غفران رضوی، ای سی ممبر مسٹر محمد کلیم کے علاوہ دیگر ویلفیر پارٹی قائدین اور کارکنوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر احتجاجیوں نے غریب بچاؤ دیش بچاؤ ، ہماری مانگیں پوری کرو کے نعرے بلند کئے۔