تمام جمہوری طاقتوں سے قانون سازی کی تائید کرنے کی اپیل : سی پی ایم کی قرار داد
حیدرآباد 21 اپریل ( پی ٹی آئی ) سی پی آئی ایم نے آج مرکز کی بی جے پی زیر قیادت حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک طویل عرصہ سے تعطل اور التوا کا شکار خواتین تحفظات بل کو ایوان میں منظور کروائے ۔ پارٹی نے تمام جمہوری تحریکات سے اپیل کی کہ وہ اس مجوزہ قانون سازی کے حق میں آواز بلند کرے ۔ سی پی آئی ایم نے اس بل کی منظوری کو یقینی بنانے کیلئے ملک گیر سطح پر احتجاج شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے ۔ یہ بل پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کو 33 فیصد تحفظات فراہم کرنے کی گنجائش فراہم کرتا ہے ۔ سی پی آئی ایم پارٹی کانگریس میں ایک قرار داد منظور کی گئی ہے ۔ اس قرار داد میں کہا گیا ہے کہ سی پی آئی ایم کی 22 ویں کانگریس یہ مطالبہ کرتی ہے کہ مرکز کی بی جے پی حکومت اس قانون کو فوری منظور کروائے اور تمام جمہوری تحریکات سے بھی اپیل کرتی ہے کہ وہ خواتین تحفظات بل کی تائید میں اپنی آواز بلند کریں۔ پارٹی نے یہ عہد کیا ہے کہ اس بل کی منظوری کو یقینی بنانے کیلئے ملک گیر سطح پر احتجاج کیا جائیگا ۔ یہ قرار داد پولیٹ بیورو رکن سورجیہ کانٹا مشرا نے پیش کی جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملک کے سیاسی حلقوں میں اکثریت اس تعلق سے انتخابی موقع پرستی کو ذہن میں رکھتے ہوئے منافقانہ ذہنیت کے ساتھ کام کرتی ہے ۔ اسی وجہ سے یہ بل اب تک اقنون کی شکل اختیار کرنے سے محروم ہے ۔ کہا گیا ہے کہ 2010 میں جب اس بل کو راجیہ سبھا میں منظور کیا گیا تھا بی جے پی نے کہا تھا کہ وہ اس بات سے خوش ہے کہ وہ اس تاریخ کا حصہ بنیہے تاہم اب جبکہ خود بی جے پی کو لوک سبھا میں قطعی اکثریت حاصل ہے اور اسے کسی بھی دوسری پارٹی کی تائید اس بل کی منظوری کیلئے ضروری نہیں ہے یہ لوگ اس کام کو آگے نہیں بڑھا رہے ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ بھی اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ادعا کیا کہ ہریانہ اور راجستھان میں بی جے پی کی حکومتوں نے ایسے بل کچھ دفعات کے ساتھ اسمبلی میں پیش کئے ہیں جن کے نتیجہ میں خواتین ‘ دلتوں اور سماج کے دوسرے پچھڑے ہوئے طبقات کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی اور یہ لوگ مجالس مقامی کے انتخابات میں حصہ لینے سے محروم ہوجائیں گے ۔