نئی دہلی۔ 16 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) تبدیلی مذہب پر جاری تنازعہ کی پرواہ کئے بغیر بی جے پی رکن پارلیمنٹ یوگی ادتیہ ناتھ نے اس طرح کے پروگرامس کو منصفانہ قرار دیا اور کہا کہ مذہب میں واپسی ایک جاری عمل ہے اور ایسا ہوتا رہے گا۔ گورکھ پور کے رکن پارلیمنٹ نے اترپردیش میں بھی دیگر ریاستوں میں منظورہ قانون کے خطوط پر ایک سخت انسداد تبدیلی مذہب قانون کی تائید کی۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’گھر واپسی‘‘ پروگرام عرصہ دراز سے ہوتا آرہا ہے، یہ ایک جاریہ عمل ہے اور ایسا ہوتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اترپردیش حکومت کا یہ احساس ہے کہ مذہب میں واپسی پروگرام غلط ہے تو ایسی صورت میں مدھیہ پردیش، اڈیشہ، راجستھان، ہماچل پردیش اور گجرات کی ریاستی حکومتوں نے جس طرح قانون سازی کی ہے، اترپردیش حکومت بھی ایسی ہی قانون سازی کرے۔
ان کا یہ تبصرہ ایسے وقت سامنے آیا جبکہ وزیراعظم نریندر مودی نے پارٹی ارکان پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ بہتر حکمرانی کے ذریعہ ترقی پر مبنی حکومت کے ایجنڈہ سے توجہ دوسری طرف نہ ہٹنے دیں۔ پارلیمنٹ میں ارکان پارلیمنٹ کے بعض تبصروں پر اپوزیشن کی جانب سے کارروائی روک دیئے جانے کے پس منظر میں انہوں نے یہ بات کہی۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے ایک مضبوط انسداد تبدیلی مذہب قانون کے تعلق سے واضح موقف اختیار نہ کرنے پر اپوزیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن قائدین سے پہلے یہ پوچھا جائے کہ تبدیلی مذہب پر کوئی قانون ہونا چاہئے یا نہیں۔ اگر ان کا یہ احساس ہے کہ قانون ہونا چاہئے تب انہیں ایسے کسی قانون کی سمت پیشرفت کی تائید کرنی ہوگی اور اگر وہ تبدیلی مذہب پر قانون نہیں چاہتے تو پھر وہ مذہب میں واپسی پروگرام کی مخالفت کیوں کررہے ہیں۔ یوگی ادتیہ ناتھ نے کہا کہ آخر اپوزیشن ایک مضبوط انسداد تبدیلی مذہب قانون سے فرار کیوں اختیار کررہی ہے۔ وہ اس مسئلہ پر اپنا موقف کیوں بدل رہی ہے؟ حکومت اترپردیش کی جانب سے ہندو تنظیم کے ارکان کی گرفتاری کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ یوپی حکومت کا رویہ بالکل نامناسب ہے۔ یہ ساری کارروائی غیرقانونی اور اقتدار کے بیجا استعمال کی مثال ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کی ارکان پارلیمنٹ کو دی گئی ہدایت سے بھی اتفاق کیا کہ انہیں ترقی کے ایجنڈہ سے روگردانی نہیں کرنی چاہئے۔