حیدرآباد ۔ 9 ۔ اپریل (سیاست نیوز) ریاست میں مختلف طبقات کی بھلائی سے متعلق کارپوریشنوں اور دیگر اداروں کی تنظیم جدید کے سلسلہ میں اعلیٰ سطح پر سرگرمیاں جاری ہیں۔ حکومت نے ابتداء میں فلاحی اداروں سے متعلق گزشتہ دو برسوں کی فائلوں کو علحدہ کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن اب گزشتہ پانچ برسوں کی تمام فائلوں کو علحدہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیت سے متعلق مختلف اداروں کے عہدیداروں کا جائزہ اجلاس آج منعقد ہوا جس میں 15 مئی تک گزشتہ پانچ برسوں کی فائلوں کو علحدہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اس کے تحت تمام فائلوں کی تین زیراکس کاپیاں کی جائیں گی۔
ایک کاپی حکومت کے ریکارڈ سیکشن میں رہے گی جبکہ دو کاپیاں تلنگانہ اور سیما آندھرا حکومت کے پاس ہوں گی۔ فائلوں کی علحدگی اور ان کے زیراکس کیلئے بڑے پیمانہ پر انتظامات کئے گئے ہیں۔ اقلیتی اداروں میں بھی تنظیم جدید کا کام تیزی سے جاری ہے ۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن ، اردو اکیڈیمی اور سی ای ڈی ایم کی تمام فائلوں کو علحدہ کرنے کا کام تقریباً 90 فیصد تک مکمل ہوچکا ہے جبکہ حج کمیٹی کی فائلوں کا کام ابھی جاری ہے۔ عہدیداروں کو ہدایت دی گئی کہ کسی بھی صورت میں 2 جون سے قبل تمام اداروں کی تقسیم کا کام مکمل کرلیا جائے ۔ آج کے اجلاس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ آیا بہبود سے متعلق تمام اداروں کو ایک ادارہ میں ضم کردیا جائے یا پھر متعلقہ کمشنریٹ کے تحت ان اداروں کو منتقل کیا جائے۔
بتایا جاتا ہے کہ عہدیداروں نے اس سلسلہ میں اپنی اپنی رائے حکومت کو پیش کی ہے۔ تاہم قطعی فیصلہ چیف سکریٹری کی سطح پر منعقد ہونے والے اجلاس میں کیا جائے گا۔ ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیتی کارپوریشن کے عہدیدار ان اداروں کی علحدہ شناخت کی برقراری کے حق میں ہیں کیونکہ ہر طبقہ کیلئے علحدہ علحدہ اسکیمات پر عمل کیا جاتا ہے ۔ 2 جون تک تمام اداروں کو دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے گا۔ آفس کے علاوہ اسٹاف انفراسٹرکچر، اثاثہ جات اور عمارت سے متعلق تمام تفصیلات طلب کی گئی ہے۔ 2 جون کو علحدہ ریاستوں کے قیام کے بعد تمام اداروں کا بجٹ 58 اور 42 فیصد کے حساب سے سیما آندھرا اور تلنگانہ میں متعین کیا جائے گا ۔ تمام اقلیتی ادارے دونوں ریاستوں کے لئے علحدہ علحدہ دفاتر قائم کریں گے اور اسٹاف کو بھی تقسیم کرلیا جائے گا ۔ اس سلسلہ میں حج ہاؤز نامپلی کی موجودہ عمارت میں واقع بعض دفاتر کو دوسری عمارتوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن ، اردو اکیڈیمی اور کرسچن فینانس کارپوریشن کیلئے شہر کے مرکزی مقامات پر دفاتر کی تلاش کا کام جاری ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے نئی عمارت کے حصول کے سلسلہ میں رقم جو گنجائش مقرر کی گئی ہے وہ ناکافی ہونے کے سبب نئی عمارت کے حصول میں دشواری کا سامنا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ ان اداروں کیلئے نئی عمارتوں کے حصول تک حج ہاؤز میں ہی ان اداروں کیلئے علحدہ سیکشن الاٹ کئے جائیں گے۔ حج ہاؤز کی موجودہ عمارت میں فی الوقت اس قدر گنجائش موجود ہے کہ وہاں موجود اداروں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اسی دوران وقف بورڈ میں بھی فائلوں کی تقسیم اور تلنگانہ اور سیما آندھرا کی بنیاد پر ریکارڈ علحدہ کرنے کا کام جاری ہے۔ تمام اقلیتی اداروں کی تنظیم جدید کا کام بہر صورت آئندہ ماہ مکمل کرلیا جائے گا۔