محکمہ اقلیتی بہبود کو بالاخر مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین کی زبوں حالی پر ترس آگیا

حیدرآباد۔ 18 ۔ فروری (سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود کو آخر کار مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین کی زبوں حالی پر ترس آیا اور گزشتہ رمضان المبارک میں بہتر خدمات کے عوض میں ایک ماہ کی تنخواہ کے طور پر جاری کردہ بونس ملازمین میں تقسیم کردیا گیا۔ حکومت نے ایک ماہ قبل ملازمین کیلئے بطور نذرانہ ایک ماہ کی تنخواہ کے طور پر دو لاکھ 4 ہزار روپئے جاری کئے تھے لیکن یہ رقم ملازمین کو ملنے تک ایک ماہ کا وقت لگ گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ملازمین کی اس بدحالی اور پریشانی سے عام آدمی تو متاثر ہوا لیکن متعلقہ عہدیداروں کو کوئی پرواہ نہیں تھی۔ اخبارات میں ملازمین کی معاشی پریشانیوں کے سلسلہ میں خبروں کی اشاعت کے بعد عہدیداروں میں ایک ماہ قبل جاری کردہ نذرانہ کی رقم ملازمین کے بینک اکاؤنٹس میں جمع کرنے کی کارروائی کی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار نے بتایا کہ نذرانہ کی رقم تمام ملازمین کے اکاؤنٹ میں پہنچ چکی ہے ۔ دوسری طرف ملازمین ڈسمبر اور جنوری کی تنخواہ سے ابھی تک محروم ہیں۔ محکمہ کی جانب سے بجٹ کی عدم موجودگی کا بہانہ بنایا جارہا ہے اور اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ متعلقہ فائل محکمہ فینانس کے پاس زیر التواء ہے

جس کی جلد یکسوئی ہوجائے گی۔ ملازمین مکہ مسجد اور شاہی مسجد اپنے مسائل کے حل کیلئے اعلیٰ عہدیداروں اور حکومت کے نمائندوں سے نمائندگی کرتے ہوئے تھک چکے ہیں۔ آخر کار انہوں نے اپوزیشن قائدین کے پاس اپنی بپتا پیش کی۔ قانون ساز کونسل کے اپوزیشن کے ڈپٹی لیڈر محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے دو ماہ کی تنخواہ کا پیشکش کیا تھا لیکن چیف منسٹر کے دفتر سے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے چیف منسٹر کے دفتر کو اطلاع دی کہ محکمہ فینانس سے بجٹ جلد ہی جاری کردیا جائے گا۔ ملازمین اور ان کے نمائندوں نے تنخواہوں کی تفصیلات کے ساتھ ایک نوٹ محمد علی شبیر کے حوالے کیا اور ان سے خواہش کی کہ وہ تنخواہوں کی اجرائی کو یقینی بنائے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں مساجد کے ملازمین محکمہ کے اعلیٰ عہدیداروں اور حکومت سے مایوس ہوکر اپوزیشن قائدین سے امیدیں وابستہ کر رہے ہیں۔ کم از کم ایسے وقت میں محکمہ اقلیتی بہبود کو فوری کارروائی کرتے ہوئے دو ماہ کی تنخواہ جاری کرنی چاہئے اس کیلئے محکمہ فینانس سے منظوری کا انتظار کئے بغیر کسی اقلیتی ادارے کے اکاؤنٹس سے عارضی طور پر رقم حاصل کی جاسکتی ہے ۔ محکمہ فینانس کی منظوری کے بعد یہ رقم متعلقہ ادارہ کو واپس کردی جائے۔