ہر وارڈ میں 40 ہزار ووٹرس ہوسکتے ہیں۔ تجویز پر عمل آوری کیلئے حکام کو ریاستی حکومت کی منظوری کا انتظار
حیدرآباد 21 ڈسمبر ( آئی این این ) مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو آئندہ بلدیہ انتخابات سے قبل 172 وارڈز میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ ذرائع کے بموجب مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو ہی 2011 کی مردم شماری کے اعتبار سے بلدی حلقہ جات کی از سر نو حد بندی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ بلدیہ نے اس سلسلہ میں ایک مکتوب ریاستی حکومت کو روانہ کیا ہے جس میں تجویز کیا گیا ہے کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآبگاد کے علاقہ کو 172 وارڈز میں تقسیم کیا جائے ۔ امکان ہے کہ بلدیہ حیدرآباد کی جانب سے حلقہ جات کی از سر نو حد بندی کا کام ریاستی حکومت سے ضروری اجازت ملنے کے بعد شروع کیا جائیگا ۔ واضح رہے کہ تلنگانہ حکومت نے 22 اکٹوبر کو بلدیہ حیدرآباد کے کمشنر سومیش کمار کو یہ ہدایت دی تھی کہ وہ مردم شماری 2011 کے مطابق بلدی حلقہ جات کی از سر نو حد بندی کا کام شروع کردیں ۔ اس سلسلہ میں جی او ایم ایس نمبر 12 محکمہ بلدی نظم و نسق کی جانب سے جاری کیا گیا تھا اور یہ 25 اگسٹ 2014 کو ہائیکورٹ کے جاری کردہ احکام کی مطابقت میں تھا ۔ ہائیکورٹ نے حکام کو ہدایت دی تھی کہ وہ مردم شماری 2011 کے مطابق آئندہ بلدیہ انتخابات سے قبل بلدی حلقہ جات کی از سر نو حد بندی کا کام کریں۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے علاقہ میں جملہ آبادی 67,31,790 ہے ۔ ہائیکورٹ کے احکام پر عمل آوری کیلئے بلدیہ حیدرآباد کے علاقہ میں بلدی وارڈز کی از سر نو حد بندی کا کام منتخبہ ارکان کی تعداد کے مطابق کیا جانا چاہئے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مجلس بلدیہ حیدرآباد نے اپنے حدود میں بلدی وارڈز کی تعداد کو بڑھاکر 172 کرنے کی تجویز پیش کی ہے اور اس کے مطابق ہر بلدی حلقہ میں تقریبا 40,000 رائے دہندے ہونگے ۔ بلدیہ حیدرآباد کے منتخب کارپوریٹرس کی معیاد جاریہ سال 3 ڈسمبر کو ختم ہوگئی اور ریاستی حکومت نے چھ ماہ کی مدت کیلئے بلدیہ کیلئے اسپیشل آفیسر کا تقرر عمل میں لایا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیہ کیلئے حلقہ جات کی از سر نو حد بندی کا کام مکمل کرنے کیلئے ان چھ ماہ کے بعد مزید تین ماہ کا وقت درکار ہوسکتا ہے ۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ریاستی حکومت بلدیہ کے انتخابات کس وقت کروائیگی ۔ حکومت حلقہ جات کی از سر نو حد بندی کا کام مکمل ہونے کے فوری بعد بھی انتخابات کرواسکتی ہے یا پھر شہر میں صنعت نگر حلقہ اسمبلی کیلئے ضمنی انتخاب کی تکمیل تک بھی انتظار کرسکتی ہے ۔ صنعت نگر حلقہ اسمبلی سے تلگودیشم کے ٹکٹ پر 2014 کے اسمبلی انتخابات میں مسٹر ٹی سرینواس یادو منتخب ہوئے تھے ۔ انہوں نے چند دن قبل تلنگانہ راشٹرا سمیتی میں شمولیت اختیارکرلی تھی ۔ انہیں تلنگانہ کابینہ میں پہلی توسیع کے موقع پر کابینہ میں شامل کیا گیا ہے اور مسٹر سرینواس یادو نے کابینہ میں شمولیت سے قبل تلگودیشم پارٹی اور پھر اسمبلی کی رکنیت سے بھی استعفی پیش کردیا تھا ۔ ایسے میں صنعت نگر حلقہ میں ضمنی انتخاب کروانا ضروری ہوگیا ہے ۔ حکومت اس حلقہ کے ضمنی انتخاب کے انعقاد کے بعد بھی بلدیہ کے انتخابات کروانے کا فیصلہ کرسکتی ہے ۔