مالیگاؤں ۔ 12 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) اردو کے نامور خطاط، مصور، مصنف جن کے صرف چند شاگرد باحیات ہیں، فیض مجدد لاہوری 82 سال کی عمر میں آج انتقال کر گئے۔ وہ کینسر کے مریض تھے۔ ورثا میں بیوی، 4 فرزندان اور ایک دختر شامل ہیں۔ تدفین 11 بجے شب آج مالیگاؤں بڑا قبرستان میں عمل میں آئی۔ انہوں نے اپنے نام میں فیضی کا اضافہ کیا تھا کیونکہ انہیں اپنے استاد فیض مجدد لاہوری سے بے انتہاء محبت تھی جو اردو کے ایک مشہور خطاط اور مصور تھے۔ رمضان پینٹر کے نام سے مشہور فیض مجدد لاہوری اپنے خوبصورت طغروں، خطاطی کے نازک کام، اور مختلف رسم الخط میں قرآن کریم کی کتابت کیلئے شہرت رکھتے تھے۔
ان کے طغروں میں جامٹری اور پھولوں کے خوبصورت ڈیزائن میں خطاطی کی جاتی تھی۔ وہ ان گنتی کے خطاطوں میں شامل تھے جنہوں نے ہندوستان میں نستعلیق رسم الخط میں خطاطی کی ہے۔ خطاطی کے پرچوں، بورڈس اور دعوت ناموں کے علاوہ ان کی مصوری کے نمونے عمارتوں اور رہائشی کامپلکس کی زینت ہیں۔ انہیں مالیگاؤں کے عوام کی وفات کے ریکارڈس جمع کرنے کا شوق تھا۔ ان کے دفتر پر اپنے ارکان خاندان اور دوستوں کی وفات کے ریکارڈ حاصل کرنے کیلئے لوگوں کا ہجوم رہا کرتا تھا۔ اس شوق کے علاوہ انہوں نے مالیگاؤں کی اولین چیزوں، مالیگاؤں کی تفصیلات اور اولین کارناموں کے بارے میں 2010ء میں ایک کتاب جس کا نام ’’اول مالیگاؤں‘‘ تھا شائع کی تھی۔