ماشل فرضی انکاؤنٹر کے ملزم 7 فوجیوں کو سزائے عمر قید

سرینگر 14 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) جموں و کشمیر میں ماشل کے مقام پر ہوئے انکاؤنٹر کو فرضی تسلیم کرلیا گیا ہے اوراس میں سات فوجیوں کو خاطی قرار دیتے ہوئے سزائے عمر قید سنائی گئی ہے ۔ فوجیوں کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے پاکستانی دراندازوں کو ہلاک کیا ہے، لیکن تحقیقات کے بعد اس بات کا پتہ چلا کہ انکاؤنٹر فرضی تھا چنانچہ ایک فوجی عدالت نے سات فوجیوں بشمول دو عہدیداروں کو سزائے عمر قید سنائی۔ عدالت نے پایا کہ ان نوجوانوں کو ملازمتیں اور رقم دینے کا وعدہ کرکے ضلع کپواڑہ لایا گیا اور 29 اپریل 2010 میں فوجیوں نے انہیں گولیاں ماردیں۔ ان بے قصور نوجوانوں کے قتل کے دوسرے دن فوج نے خط قبضہ کے قریب ماشل سیکٹر میں 3 پاکستانی دراندازوں کے انکاؤنٹر کا دعوی کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ فوجیوں نے تنخواہوں میں اضافہ اور ایوارڈس کیلئے کشمیری نوجوانوں کی زندگیاں ختم کیں۔ فوجی عدالت نے اپنے فیصلہ میں جہاں ساتوں فوجیوں کو عمر قید کی سزا سنائی وہیں انہیں سبکدوشی کے بعد خدمات کے جو فوائد یا ترغیبات ملتے تھے اسے بھی معطل کردیا۔ اس فرضی انکاؤنٹر کے بعد کشمیر میں بڑے پیمانے پر عوامی مظاہرے ہوئے تھے ۔ چیف منسٹر عمر عبداللہ نے فوجیوں کو فرضی انکاؤنٹر کے جرم میں سزائے عمر قید سنائے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے ٹوئیٹر پر ایک پیام میں کہا کہ وادی کشمیر میں کسی کو کبھی بھی اس بات کا یقین نہیں تھا کہ اس قسم کے مقدمات میں انصاف ہوگا۔

سرکاری اداروں پر سے اعتماد اٹھ چکا تھا لیکن ماشل فرضی انکاؤنٹر کیس میں ملزم فوجیوں کو سزا سنائے جانے کے بعد امید کہ ایسے واقعات کا اعادہ نہیں ہوگا۔ مقتولین کے ارکان خاندان کا کہنا ہیکہ سپاہیوں نے ان کے بیٹیوں کے ساتھ جو کچھ کیا اس کیلئے عمر قید کی سزا کافی نہیں ہے۔ تین شہید نوجوانوں میں سے ایک ریاض احمد لون کی والدہ نسیم بانو کا کہنا ہے کہ ان فوجیوں نے حالت برہمی میں میرے بیٹے کو قتل نہیں کیا بلکہ ایک منصوبہ کے تحت اس کا قتل کیا ہے۔ نسیم بانو کا کہنا ہے کہ فوجیوں نے ہمارے بچوں کو قتل کرنے اپنے اختیارات اور بندوقوں کا بیجا استعمال کیا ہے۔ ایسے میں یہ قاتل سولی پر چڑھائے جانے کے مستحق ہیں۔ اس واقعہ پر سوشیل میڈیا پر عوام شدید ردعمل کا اظہار کررہے ہیں۔ ان کی رائے میں انعامات تنخواہوں میں اضافہ اور تمغہ شجاعت کے لالچ میں بے قصور و نہتے نوجوانوں کو موت کی نیند سلانے والے قاتل فوجیوں کو پھانسی پر لٹکایا جانا چاہئے ۔ دوسری جانب بی جے پی عدالت کے اس فیصلے سے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے اور وہ انتخابات کے دوران اس مسئلہ کو موضوع بحث بنانے کی تیاری کر رہی ہے ۔