بچی کچی اراضی پر سیاسی قائدین کی نظریں ، مسجد کا تحفظ کرنے اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کا عزم
حیدرآباد ۔ 24 ۔ مارچ : مادھا پور ہائی ٹیک سٹی کے وسط میں مین روڈ پر اراضی کی قیمت کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں تو پتہ چلے گا کہ وہاں فی مربع گز اراضی دیڑھ لاکھ روپئے ہے ۔ فی مربع گز اراضی کی قیمت 1.5 لاکھ روپئے ہو تو وہاں اگر کسی ادارہ کی ایک ایکڑ 15 گنٹے اراضی ہو تو اس کی قیمت کروڑہا روپئے ہوجاتی ہے ۔ ریاستی وقف بورڈ کے تحت مادھا پور ہائی ٹیک سٹی کے خانم پیٹ میں 455 سالہ ایک قدیم عالمگیری مسجد ہے اس کے تحت ایک ایکڑ پندرہ گنٹے اراضی بھی ہے ۔ تاہم ریاستی وقف بورڈ کے عہدیداروں کی نا اہلی اور مسلمانوں کی غفلت کے باعث 6640 گز اراضی میں سے تقریبا اراضی پر غیروں نے قبضہ کرلیا ہے اور مابقی اراضی پر سیاسی عناصر نے اپنی نظریں گاڑ رکھی ہیں ۔ اس مسجد اور اس کے تحت قیمتی اوقافی اراضی کی تباہی میں لینڈ گرابروں ، متعلقہ پولیس اور وقف بورڈ کے عہدیداروں کے ساتھ ساتھ سیاسی مفادات حاصلہ کا اہم رول رہا ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ 6 اگست 2009 ، 9 اپریل 2010 ، 14 فروری 2011 اور 20 دسمبر 2011 کو مسجد کے تحفظ کا دعویٰ کرتے ہوئے ایک سیاسی جماعت کے قائدین نے وقف بورڈ عہدیداروں کے ہمراہ مسجد کا دورہ کیا اور ایک مرتبہ وہاں ایک وقت کی نماز ادا کرتے ہوئے یہ تاثر دیا گیا کہ مسجد آباد کردی گئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسجد اب تک غیر آباد ہے ۔ جہاں تک وقف بورڈ کے عملہ کا سوال ہے جب وھی مسجد کی موقوفہ اراضی پر تعمیری کام شروع ہوتا وقف بورڈ کا عملہ کچھ حرکت میں آتا وہاں کا دورہ کرتا اور پھر دوسرے ہی دن سے مسجد عالمگیری خانم پیٹ ان کے ذہنوں سے نکل جاتی ۔ اس مسجد کی اراضی جہاں جہاں کا سروے نمبر 65 ہے ۔
لینڈ گرابروں کے لیے سونے کی کان ثابت ہوئی ہے ۔ مقامی مسلمانوں اور وقف بورڈ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس مسجد اور اس کی اراضی کا تحفظ کرنے کی بجائے لینڈ گرابروں کو مدد کرتی رہی اگر محکمہ پولیس اور وقف بورڈ مسلمانوں کی قیمتی اراضی پر توجہ مرکوز کرتے تو اسے ناجائز قابضین سے بچایا جاسکتا تھا ۔ اب بھی چاہے تو وقف بورڈ مسجد کے تحت جو اراضی بچی ہوئی ہے اس پر رہائشی کامپلکس تعمیر کرتے ہوئے کروڑہا روپئے کے کرایہ حاصل کرسکتا ہے ۔ اس لیے کہ ہائی ٹیک سٹی میں تقریبا 15 ہزار آئی ٹی ماہرین کام کرتے ہیں وار وہ سستی اور اچھی رہائش گاہوں کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ اسپیشل آفیسر وقف بورڈ مسٹر شیخ محمد اقبال آئی پی ایس اس جانب سنجیدگی سے توجہ دیں تو ممکن ہے کہ وقف بورڈ کی آمدنی میں اس مسجد کی اراضی سے بھی اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ 11 ستمبر 2006 کو آندھرا پردیش وقف ٹریبونل نے کلکٹر تحیصلدار اور دوسروں کو اس معاملہ سے دور رہنے کی ہدایت دی تھی اور مسجد میں نماز کی ادائیگی کی بھی اجازت دی تھی ۔ اس وقت کے کلکٹر رنگاریڈی اور وزیر اوقاف محمد فرید الدین نے مسجد کا معائنہ کیا تھا جب کہ پولیس پروٹیکشن میں ایک وقت کی نماز ادا کی گئی تھی ۔ عوام کا کہنا ہے کہ شیخ محمد اقبال آئی پی ایس مسجد عالمگیری اور اس کی اراضی کے تحفظ کے لیے اقدامات کریں کیوں کہ قریبی بستیوں کی موریوں کا رخ مسجد کی جانب موڑ دیا گیا ہے ۔ مسجد پہلے ہی سے انتہائی شکستہ ہوگئی ہے ۔ جب اس بارے میں اسپیشل آفیسر وقف بورڈ سے بات کی تو پتہ چلا کہ انہوں نے مسجد عالمگیری خانم پیٹ اور اس کے تحت قیمتی اوقافی اراضی کی تفصیلات عہدہ داروں سے طلب کرلی ہیں اور عنقریب ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے ۔۔
مسجد عالمگیری خانم پیٹ ہائی ٹیک سٹی کا وقف ریکارڈ
سروے نمبر 65 ، گزٹ نمبر 6A ، مورخہ 1989 اس وقت کے اسٹیٹ سروے کمشنر بی کرشنا راؤ نے دوسرے سروے کی رپورٹ میں مسجد کی جملہ اراضی 1.15 ایکڑ بتائی ہے ۔۔