لکھوی کی قید کے مقدمی کی کیمرہ کی موجودگی میں سماعت

اسلام آباد ۔ 13 ۔ جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ذکی الرحمن لکھوی کی حراست کے مقدمہ کی سماعت کیمرہ کی موجودگی میں کی جائے گی۔ ہائی کورٹ نے آج حکومت پاکستان کی اس سلسلہ میں درخواست کو منظور کرتے ہوئے کہا کہ لکھوی کے خلاف ممبئی حملوں کا سازشی ہونے کے سلسلہ میں ’’ٹھوس ثبوت‘‘ موجود ہیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے آج اطلاع دی تھی کہ حکومت کے پاس لکھوی کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں، جن میں عدالت کی کھلی سماعت کے دوران عوام کو شامل نہیں کیا جاسکتا۔ ایک سرکاری عہدیدار نے کہا کہ اس نے عدالت سے درخواست کی کہ مقدمہ کی سماعت کیمرہ کی موجودگی میں کی جائے تاکہ حکومت ملزم کے خلاف ثبوت پیش کرسکیں، جس کی بنیاد پر نظم و نسق عامہ کی برقراری کیلئے لکھوی کو قید میں رکھنا جائز قرار پاتا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے مقدمہ کی سماعت سپریم کورٹ کی ہدایت پر شروع کی ہے، جس نے قبل ازیں لکھوی کو قید میں رکھنے کے حکومت کے فیصلہ کو بالائے طاق رکھ دیا تھا۔ سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے جس کی صدارت جسٹس جواد ایس خواجہ کر رہے تھے، یہ مقدمہ دوبارہ ہائی کورٹ کے سپرد کردیا تاکہ قطعی فیصلہ سے قبل ’’مکمل سماعت‘‘ کی جائے۔ سپریم کورٹ نے تبصرہ کیا تھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہائی کورٹ نے فیصلہ عجلت میں کیا ہے کیونکہ اس نے حکومت کے دلائل کی سماعت تک نہیں کی تھی۔ 18 ڈسمبر 2014 ء کو انسداد دہشت گردی عدالت نے لکھوی کی ضمانت پر رہائی منظور کی تھی جو نومبر 2008 ء میں ممبئی پر دہشت گرد حملوں کی سازش تیار کرنے،

اس کیلئے مالیہ فراہم کرنے اور اس پر عمل آوری کرنے میں ملوث تھا ۔ تاہم حکومت پاکستان نے اسے اگلے دن تک زیر حراست رکھا لیکن ہائی کورٹ کے جج قریشی نے لکھوی کی قید کو معطل کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ’’قانونی بنیاد کمزور ہے‘‘۔ قبل ازیں انہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے رہا کیا جانے والا تھا لیکن انہیں افغان شہری محمد انور خان کے اغواء کے الزام میں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔ گزشتہ ہفتہ لکھوی نے اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت سے اغواء مقدمہ میں ضمانت حاصل کرلی تھی۔ حکومت نے تحت کی عدالت کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ جسٹس شوکت صدیقی کی زیر صدارت ایک دو رکنی بنچ نے لکھوی کو مقدمہ کی آئندہ سماعت میں اپنے دلائل پیش کرنے کیلئے طلب کیا تھا ۔ عدالت نے سماعت کی آئندہ تاریخ ہنوز طئے نہیں کی ہے۔ لکھوی اور دیگر 6 افراد عبدالواجد، مظہر اقبال ، حمد امین صادق ، شاہد جمیل ریاض ، جمیل احمد اور یونس انجم پر نومبر 2008 ء میں ممبئی دہشت گرد حملوں کی سازش رچنے اور اس پر عمل آوری کا الزام عائد کیا گیا ہے جس میں 166 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔