لکھوی کی ضمانت کو چیلنج کرنے میں حکومت پاکستان ناکام

اسلام آباد ۔ 22 ڈسمبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت پاکستان 2008 ء ممبئی حملوں کے کلیدی منصوبہ ساز ذکی الرحمن لکھوی کی ضمانت کو چیلنج کرتے ہوئے درخواست داخل کرنے میں ناکام رہی ۔ دوسری طرف ملزم نے جوڈیشل پیانل کے ریکارڈ کو 26/11 مقدمہ میں شواہد کا ایک حصہ بنانے عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے ۔ استغاثہ کی طرف سے لکھوی کو ضمانت منظور کرنے اسلام آباد انسداد دہشت گردی کورٹ کے فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کئے جانے کا امکان تھا لیکن وہ ایسا نہیں کرسکی کیونکہ اُسے اب تک عدالت کے حکم نامہ کی نقل حاصل نہیں ہوئی ۔ استغاثہ سربراہ چودھری اظہر نے بتایا کہ ہمیں انسداد دہشت گردی عدالت کے حکم نامہ کی نقل حاصل کرنے میں مشکل درپیش ہے ۔ وہ نہیں بتاسکتے کہ کل بھی اپیل دائر کی جاسکے گی یا نہیں کیونکہ اس کا انحصار عدالتی حکم نامہ ملنے پر ہے ۔ جب ہمیں عدالت کے یہ حکم نامہ حاصل ہوجائے گا تو درخواست تیار کرنے کیلئے وقت درکار ہوگا ۔ انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد کے جج کوثر عباس زیدی نے 18 ڈسمبر کو ذکی الرحمن لکھوی کو اُن کے خلاف شواہد کے فقدان کی بناء ضمانت منظور کرلی تھی لیکن اس سے پہلے کہ اُنھیں جیل سے رہا کیا جاتا حکومت نے اڈیالا جیل میں عام حالات کی بحالی کے مقصد سے مزید 3 ماہ کیلئے حراست میں رکھا ۔ لکھوی کو ضمانت منظوری کئے جانے کے فیصلے پر ہندوستان نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور ایسے وقت اُسے یہ ضمانت منظور کی گئی جبکہ چند دن قبل ہی طالبان نے پشاور میں تقریباً 148 افراد کا قتل عام کیا تھا جن میں اکثریت اسکولی بچوں کی تھی ۔ لکھوی کے وکیل نے دوسری طرف ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے ٹرائیل کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے کہ پاکستان جوڈیشل کمیشن کا ریکارڈ ممبئی دہشت گرد حملے کے مقدمہ میں شواہد کا ایک حصہ ہوگا ۔