حیدرآباد ۔ 26 نومبر (سیاست نیوز ) خواتین اور لڑکیوںپر بڑھتے مظالم کا رونا چھوڑ کر حالات کا مقابلہ کرنے اور اپنے اوپر ہونے والے مظالم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے خواتین اور لڑکیو ںکو قابل بننے کی ضرورت ہے۔ شاہین ویمنس ریسورس اینڈ ویلفیر اسوسیشن کی جانب سے’’خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں‘‘ کے عنوان پر اردو گھر مغل پورہ میں منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے شریمتی شیام سندری جوائنٹ ڈائرکٹر ویمن اینڈ چائلڈ ڈپارٹمنٹ نے یہ بات کہی۔ شریمتی ستیا وتی اور محترمہ جمیلہ نشاط نے بھی خطاب کیا ۔ شیام سندری نے مزید کہاکہ سماج میںلڑکے اور لڑکی کے درمیان بڑھتا امتیازی سلوک تشویشناک ہے۔ انہوں نے سرپرستوں پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ وہ لڑکے اور لڑکی کے درمیان میںفرق کرتے ہیںاور یہی وجہہ کہ اکثر لڑکیوں کو سرکاری اسکولوں سے تعلیم دلائی جاتی ہے جبکہ لڑکوں کو کانونٹ اسکول میںشریک کرایا جاتا ہے ۔ خواتین اور لڑکیوںکو اپنے ساتھ ہونے والے مظالم پر رونے کے بجائے اپنے آنسوئوں کوہتھیا ر بنائیں تاکہ آنے والے مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی اپنے اندر ہمت پیدا ہوسکے۔ شریمتی ستیا وتی نے کہا کہ خواتین پر مظالم کی روک تھام کے لئے مرکزی حکومت نے مختلف قوانین کو لاگو کیا ہے جن کے متعلق خواتین میںشعور بیداری مہم کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سماج میںبڑھتے جنسی امیتازپر ناراضگی کا اظہار کیا۔ محترمہ جمیلہ نشاط نے کہاکہ سرکاری اسکول برائے نسواں بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ پانی کی موثر سربراہی کے علاوہ سیلنگ فیان‘ چٹائی جیسی بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے لہذا اسوسیشن کی جانب سے منتخب اسکولس میںمذکورہ اشیاء بطور عطیہ دی جارہی ہیں ۔