بجنور ، 21 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) ایک مسلم فیملی پر حملے کے بعد ضلع بجنور کے ایک گاؤں میں کشیدگی پھیل گئی۔ یہ واقعہ دھامپور پولیس اسٹیشن کے علاقے میں جمعہ کو پیش آیا۔ بتایا گیا کہ اس فیملی کا ایک ممبر کسی ہندو لڑکی کے ساتھ 31 جنوری کو فرار ہوگیا۔ پولیس نے اس لڑکی کا جمعرات کو جموں و کشمیر میں پتہ چلا لیا لیکن وہ نوجوان ہنوز فرار ہے۔ اس طرح کے مزید حملوں کے اندیشے پر مفرور نوجوان کی فیملی اور دیگر رشتے داروں نے اپنا گاؤں چھوڑ دیا ہے، جہاں بڑی تعداد میں پولیس کو تعینات کردیا گیا ہے۔ بجنور ایس پی دنیش کمار نے کہا: ’’لڑکی اور نوجوان جموں و کشمیر گئے تھے۔ لڑکی کو ڈھونڈ نکالا گیا مگر نوجوان نے پولیس کو چکمہ دیا۔ اسے ڈھونڈنے کی کوششیں جاری ہیں۔ آج اس لڑکی کا طبی معائنہ کرایا گیا اور اُس کا بیان عدالت کے روبرو قلمبند کیا گیا۔ اسے کسی ’پروٹیکشن ہوم‘ میں رکھا گیا تھا۔‘‘ اس لڑکی کے والد کی شکایت پر نوجوان کے خلاف یہ مقدمہ درج رجسٹر کیا گیا
اس نے لڑکی کو مبینہ طور پر اغوا کیا تاکہ زبردستی شادی رچاسکے۔ دھامپور ایس ایچ او، رویندر پرتاپ سنگھ نے کہا کہ پولیس اس لڑکی کو تحویل میں لینے کے ضمن میں عدالت کی اجازت حاصل کرے گی۔ اس کیس کے تحقیقاتی عہدہ دار سب انسپکٹر مکیش کمار نے کہا کہ یہ لڑکی جو بالغ ہے، ضلع مرادآباد کی متوطن اور بجنور میں گرائجویشن کی طالبہ ہے۔ وہ ہاسٹل میں مقیم تھی۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ملزم نوجوان موبائل فون رپیرنگ شاپ چلاتا ہے۔ 31 جنوری کو یہ لڑکی اپنے ہاسٹل سے وطن کو جاتے ہوئے لاپتہ ہوگئی۔ جب وہ گھر نہیں پہنچی جو بجنور سے قریب ہے، اس کے رشتے داروں نے تلاش شروع کردی۔ جب اس کا کچھ پتہ نہ چل سکا تو اس کے والد نے پولیس کے پاس اپنی لڑکی لاپتہ ہوجانے کی شکایت درج کرائی۔ جب لڑکی کی فیملی اسے ڈھونڈنے لگی تو انھیں معلوم ہوا کہ وہ کسی مقامی نوجوان کے ساتھ اکثرو بیشتر دیکھی جارہی تھی۔ مکیش کمار کے مطابق اس انکشاف پر لڑکی کے والد نے آئی پی سی کی دفعات 363/366 کے تحت مقدمہ درج کرایا۔