لوک پال قانون میں تبدیلیوں پر عوام سے رائے طلبی

نئی دہلی 7 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ایک پارلیمانی کمیٹی نے آج عوام سے لوک پال قانون میں تبدیلیوں کے بارے میں رائے طلب کی۔یہ قانون واحد سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے رکن کو لوک سبھا میں قائد اپوزیشن مقرر کرنے کی گنجائش رکھتا ہے۔ اِس سلسلہ میں ایک پارلیمانی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو اپنے صدرنشین اور ارکان کا انتخاب کرے گی۔ یہ انسداد کرپشن ادارہ ہوگا۔ لوک پال اور لوک آیوکت اور دیگر متعلقہ قانون (ترمیمی) بِل 2014 ء 8 ڈسمبر کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا۔ اِسے پارلیمنٹ کی اسٹانڈنگ کمیٹی برائے عوامی شکایات، قانون اور انصاف کے حوالہ کردیا گیا۔ جس کے صدر راجیہ سبھا رکن ای ایم سدرشنا نچی اپن ہیں۔ کمیٹی نے فیصلہ کیاکہ یادداشتیں طلب کی جائیں جن میں انفرادی اور دلچسپی رکھنے والی تنظیموں کی رائے شامل ہو تاکہ اِس قانون کے موضوع کے بارے میں زبانی شہادتیں بھی حاصل کی جاسکیں۔ اِس سلسلہ میں آج ایک اشتہار روزناموں میں شائع کیا گیا ہے جس میں مختلف شعبہ ہائے حیات کے مختلف زمروں کے سرکاری ملازمین پر عائد ہونے والے قواعد و ضوابط کے بارے میں بھی رائے طلب کی گئی ہے۔