تحریک عدم اعتماد پر مباحث کے دوران آندھراپردیش کو خصوصی موقف دینے پر زور
حیدرآباد /20 جولائی ( سیاست نیوز ) لوک سبھا میں آج تحریک عدم اعتماد پر مباحث کے دوران تلگودیشم اور ٹی آر ایس ارکان کے درمیان لفظی جھڑپ دیکھی گئی ۔ آندھراپردیش کو خصوصی زمرہ کا موقف دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے مرکزی کی مودی حکومت کے خلاف تلگودیشم اور دیگر پارٹیوں کی پیش کردہ تحریک عدم اعتماد پر مباحث ہوئے ۔ تلگودیشم رکن جے گالا نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے غیر منقسم ریاست آندھراپردیش کو 2014 میں منقسم کردیا گیا تھا ۔ لوک سبھا میں اے پی ری آرگنائزیشن ایکٹ منظور کیا گیا تھا ۔ آندھراپردیش کو غیر سائنسی ، غیر جمہوری اور غیر ضروری طور پر علحدہ کردیا گیا ۔ ان کے اس بیان پر ٹی آر ایس ارکان نے شدید احتجاج کیا ۔ ٹی آر ایس کے قائد مقننہ جتیندر ریڈی ، پی ونود ، بالیکا سُمن ، کے کویتا نے اپنے بنچوں سے اُٹھ کر پرشور احتجاج کیا اور ایوان کے وسط میں پہونچکر اپنا احتجاج درج کروایا ۔ اسپیکر سُمترا مہاجن نے ٹی آر ایس ارکان کی اس حرکت پر ناراضگی ظاہر کی اور ان کو یہ مشورہ دیا کہ وہ اپنی نشستوں پر جاکر بیٹھ جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس سرکار کو بھی اظہار خیال کا موقع دیا جائے گا ۔ اسی دوران تلگودیشم کے رکن نے بھی اُٹھ کر احتجاج کیا اور کہا کہ وہ حقائق بیانی سے کام لے رہے ہیں ۔ موجودہ حقائق کے پیش نظر احتجاج کی ضرورت نہیں ہے ۔ آندھراپردیش سے تلنگانہ سے علحدہ نہیں ہوا بلکہ اسے علحدہ کیا گیا اور وہ نئی ریاست بن گئی ہے ۔ اس کی وجہ سے آندھراپردیش کو تمام محاذوں پر مالیاتی پریشانوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ حیدرآباد ، تلنگانہ ریاست کے حصہ میں چلے جانے سے آندھراپردیش کو 3800 کروڑ روپئے کامالیہ ملنا بند ہوگیا ۔ اسی طرح سنگارینی کالریز سے بھی آنے والے رقم مسدود ہوگئی ۔