مجلس بلدیہ میں درخواستوں کا انبار ، عدالت کی مداخلت کے بعد ایل آر ایس کی یکسوئی میں رکاوٹ
حیدرآباد۔17اپریل(سیاست نیوز) اوقافی جائیداد کو باقاعدہ بنانے کے لئے وصول ہونے والی درخواستیں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کیلئے درد سر بنی ہوئی ہیں اور بلدی عہدیدار اس مسئلہ کی یکسوئی سے قاصر ہیں جبکہ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کو جی ایچ ایم سی نے شیر لنگم پلی میں واقع انتہائی قیمتی اوقافی اراضی کو باقاعدہ بنانے کے لئے موصول ہونے والی درخواستوں سے واقف کرواتے ہوئے ایک سے زائد مرتبہ نوٹس جاری کی ہے کہ وہ مذکورہ اراضی پر اپنے ادعا کو ثابت کرنے کیلئے دستاویزات کے ساتھ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد سے رجوع ہوتے ہوئے مسئلہ کی یکسوئی کرلیں۔بتایاجاتاہے کہ حکومت کی جانب سے اراضیات کو باقاعدہ بنانے کے سلسلہ میں ایل آر ایس اسکیم کے اعلان کے بعد پلوی انکلیو ہاؤزنگ سوسائٹی (عیدگاہ گٹلہ بیگم پیٹ) کے 300 سے زائد خاندانوں نے ایل آر ایس کے تحت درخواست داخل کرتے ہوئے اسے باقاعدہ بنانے کی خواہش کی لیکن تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے اس اراضی پر ادعا کے باعث تاحال اس اراضی کو باقاعدہ بنانے کے سلسلہ میں پیشرفت نہیں کی گئی لیکن پلوی انکلیو کے مکینوں نے عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے نام احکام حاصل کئے کہ وہ ایل آر ایس کے تحت داخل کی گئی درخواستوں کی یکسوئی کے اقدامات کریں جس پر جی ایچ ایم سی نے جولائی 2017 میں تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فوری دستاویزات کے ساتھ عہدیداروں سے رجوع ہونے کی خواہش کی لیکن اس نوٹس کے بعد بھی وقف بورڈ کے حرکت میں نہ آنے کے باعث جی ایچ ایم سی کو ایل آر ایس کی درخواستوں کا جائزہ لینا پڑ رہا تھا کہ دوبارہ درخواست مفاد عامہ کے تحت عدالت نے دوبارہ جی ایچ ایم سی کو احکام جاری کردیئے کہ وہ ان درخواستوں کی یکسوئی کرے جس پر شیرلنگم پلی زون کے ڈپٹی کمشنر جی ایچ ایم سی نے تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کو ایک اور نوٹس جاری کرتے ہوئے 7دن کی مہلت فراہم کی اور درکار دستاویزات جمع کروانے کی تاکید کی لیکن اس کے بعد بھی وقف بورڈ کی جانب سے اختیار کردہ خاموشی کے باعث جی ایچ ایم سی عہدیدار مسئلہ کو زیر التواء رکھے ہوئے تھے کیونکہ ان کا احساس ہے کہ اگر ایل آر ایس کی درخواستوں کی یکسوئی کردی جاتی ہے تو ایسی صورت میں یہ مسئلہ سنگین نوعیت اختیار کرسکتا ہے اسی لئے اس مسئلہ کوتعطل کا شکار بنایا گیا لیکن فروری 2018 میں تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے شیرلنگم پلی میں موجود اس موقوفہ اراضی پر اپنے ادعا کے سلسلہ میں گزٹ اعلامیہ کی نقل مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو روانہ کردی گئی جس پر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیدار مزید الجھن کا شکار بن چکے ہیں کیونکہ اب وہ یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے ہیں کہ اس مسئلہ میں گزٹ اعلامیہ کو قبول کیا جائے یا عدالت کے احکام کی تکمیل کی جائے ۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پلوی انکلیو(گٹلہ بیگم پیٹ) معاملہ میں جی ایچ ایم سی عہدیداروں نے فیصلہ کیا ہے تھا کہ ایل آر ایس کے تحت داخل کردہ درخواستوں کی مشروط یکسوئی کردی جائے اور عدالت کے قطعی فیصلہ اور جائیداد کی ملکیت کے معاملہ پر فیصلہ پر درخواست کی یکسوئی کا انحصار رکھا جائے۔ بتایاجاتاہے کہ وقف بورڈ کی جانب سے گزٹ اعلامیہ کی نقل موصول ہونے کے بعد مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے معاملہ میں قانونی رائے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور جب تک ایڈوکیٹ جنرل کا تقرر نہیں ہوجاتا اس وقت تک اس معاملہ کی یکسوئی کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔