لشکرطیبہ اور حقانی نیٹ ورک کو نشانہ بنانے کی خواہش

اسلام آباد ۔ 13 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سخت لب و لہجہ میں بات چیت کرتے ہوئے وزیرخارجہ امریکہ نے آج پاکستانی قیادت سے خواہش کی کہ تمام عسکریت پسندوں بشمول لشکرطیبہ، طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی جائے کیونکہ وہ پاکستان کے علاوہ پڑوسی ممالک جیسے ہندوستان اور امریکہ کے لئے بھی خطرہ بن گئے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان کے مشیر امورخارجہ سرتاج عزیز کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جان کیری نے کہا کہ پاکستانی اور افغانستان طالبان، حقانی نیٹ ورک، لشکرطیبہ اور دیگر گروپس پاکستان اور اس کے پڑوسی ممالک جیسے امریکہ اور ہندوستان کیلئے خطرہ ہیں، ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جانی چاہئے۔ جان کیری ہندوستان میں متحرک گجرات چوٹی کانفرنس میں شرکت اور صدر امریکہ بارک اوباما کے آئندہ دورہ ہند کی راہ ہموار کرنے کے بعد ہندوستان سے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب اس بات کو یقینی بنانے کے ذمہ دار ہیں کہ انتہا پسند مزید قدم جمانے کے موقف میں نہ آجائیں چاہے وہ امریکہ ہو یا پاکستان ۔ ان کو کہیں بھی قدم جمانے کا موقع نہیں ملنا چاہئے۔ حقانی نیٹ ورک پر ہندوستانی سفارتخانہ برائے افغانستان پر 2008ء مہلک بمباری کرنے کا الزام ہے جس میں 58 افراد ہلاک ہوگئے۔ 2011ء میں امریکہ سفارتخانہ برائے کابل پر بھی حقانی نیٹ ورک کے حملہ میں کئی بڑی لاریاں جن میں بم بھرے ہوئے تھے، سفارتخانہ کی عمارت میں زبردستی داخل کردی گئی تھی۔ امریکہ اور افغان عہدیدار بار بار کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کا جاسوس محکمہ آئی ایس آئی خفیہ طور پر حقانی نیٹ ورک کو افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بنانے میں مدد گار ہے۔ پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں عسکریت پسند تنظیموں کے صفائے کیلئے ’’ضرب اعضب‘‘ کاررائی شروع کر رکھی ہے جس میں تاحال 1500 عسکریت پسند ہلاک ہوچکے ہیں۔