کوالالمپور ، 13 جون (سیاست ڈاٹ کام) ملائیشیا کے لاپتہ مسافر طیارے ایم ایچ 370 کے مسافروں کے لواحقین کو ہرجانے کے سلسلے میں معاوضے کی رقوم کی ادائیگی شروع کر دی گئی ہے۔ یہ معاوضہ پچاس ہزار امریکی ڈالر ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اب تک چھ ملائیشیائی اور ایک چینی خاندان کو رقوم ادا کی گئی ہیں اور بیما پالیسی کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ وہ 40 مزید خاندانوں کے دعووں پر غور کر رہے ہیں۔ جبکہ ایم ایچ 370 کے مسافروں کے لواحقین پونے دو لاکھ امریکی ڈالروں تک کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ ملائیشیا کے نائب وزیر خارجہ حمزہ زین الدین کا کہنا تھا کہ لواحقین کو مکمل رقم اس وقت ہی دی جا سکے گی جب اس افسوسناک واقعے کے انجام کے بارے میں سرکاری طور پر اعلان کر دیا جائے۔ ملائیشیا ایئر لائن نے مختلف کمپنیوں کے ایک گروپ سے بیما پالیسی لے رکھی ہے جن میں جرمنی کی آلی آنز شامل ہے۔
جبکہ گمشدہ طیارے کے مسافروں کے لواحقین نے رقم اکٹھی کرنے کی مہم کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ پرواز ایم ایچ 370 کا آخر ہوا کیا۔ بدقسمت طیارے کے مسافروں کے گھر والوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ ‘اس شخص کی حوصلہ افزائی کیلئے کم از کم پچاس لاکھ ڈالر اکٹھے کرنا چاہتے ہیں جسے اندر کی خبر ہے اور وہ سامنے آ کر ہمیں بتائے کہ طیارہ کیونکر غائب ہوا’۔ خیال رہے کہ مختلف ممالک کے طیارے اور بحری جہاز سمندر میں ایم ایچ 370 کے کسی بھی قسم کے شواہد تلاش کرنے میں مصروف ہیں تاہم اب تک اس میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ کوالالمپور سے بیجنگ جانے والا یہ مسافر بردار طیارہ آٹھ مارچ کو لاپتہ ہو گیا تھا اور اس پر 239 افراد سوار تھے، جن میں سے بیشتر چینی باشندے تھے۔