لالو ‘نتیش اور ملائم کا آج انضمام کے مسئلہ پر تبادلہ خیال

مانجھی کو جنتا پریوار میں شامل کرنے کی لالو پرساد کی تجویز پر ہلچل ‘بہار انتخابات کی تیاریاں

نئی دہلی / پٹنہ 21 مئی (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر بہار نتیش کمار ‘ صدر آر جے لالو پرساد کل سماجوادی پارٹی کے صدر ملائم سنگھ یادو سے انضمام کے سلسلہ میں بات چیت کریں گے جبکہ انضمام کے قواعد و ضوابط کے بارے میں اختلافات جاری رہنے کی افواہیں گرم ہیں۔ اجلاس سے ایک دن قبل لالو نے جے ڈی یو میں کھلبلی مچادی جبکہ انہوں نے کہا کہ سابق چیف منسٹر جتن رام مانجھی نتیش کمار کے منحرف ہیں انہیں بھی وسیع تر اتحاد کا حصہ ہونا چاہئے جو بی جے پی کے خلاف کیا جارہا ہے۔ جے ڈی یو کے ترجمان کے سی تیاگی نے کہا کہ نتیش کمار اور لالو پرساد اجلاس کیلئے یہاں پہنچ چکے ہیں جس کے دوران بات چیت کا مرکزی موضوع بہار اسمبلی انتخابات سے جو جاریہ سال کے اواخر میں مقرر ہیں‘ انضمام کے مسائل پر بھی بات چیت ہوئی ۔ 15اپریل کو ملائم سنگھ یادو کو نئی پارٹی کا صدر مقرر کیا گیاہے ۔ مذاکرات کے آغاز سے پہلے واقعات نے ایک عجیب موڑ لیا جبکہ لالو پرساد نے سابق چیف منسٹر مانجھی کو بی جے پی مخالف اتحاد میں شامل کرلینے کا تذکرہ کیا۔ نتیش کمار جنہوں نے مانجھی کو اپنا جانشین مقرر کیاتھا لالو کی تجویز پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ۔ ریاستی جے ڈی یو صدر بسیستا نارائن سنگھ نے کہا کہ مانجھی کو تصویر میں کھینچ لانے کا کوئی مطلب نہیں ہے کیونکہ مبینہ طور پر وہ بی جے پی سے قریب ہوگئے ہیں ۔

برشن پٹیل ایک سابق وزیر اور مانجھی کے قریبی ساتھی ہے تاہم لالو کا اس دعوت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ اُن کی پارٹی کسی ایسے اتحاد میں شامل نہیں ہوگی جس میں نتیش کمار بھی شامل ہو۔ انضمام کے کارآمد نہ ہونے کا پہلا طاقتور اشارہ چند دن قبل ملا جبکہ سماجوادی پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری رام گوپال یادو نے اعلان کیا تھا کہ یہ بہار اسمبلی انتخابات سے پہلے بعض ٹکنیکل وجوہات کی بناء پر ناممکن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عُجلت میں کیا ہوا کوئی بھی اقدام خود ان کی پارٹی کیلئے موت کا حکمنامہ ثابت ہوسکتا ہے۔اسی وقت سے عظیم اتحاد کے بارے میں الجھن پیدا ہوگئی تھی اور قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ کیا بہار کے دو گروپ ایک چھتری تلے آسکتے ہیں یا ایک ہی اتحاد میں شریک ہوسکتے ہیں ۔ لالو نے رام گوپال یادو کی دھن پر بھی گیت گیا اور ٹکنیکی رکاوٹوں کا تذکرہ کیا جس کی وجہ سے دو پارٹیاں جو انتخابات میں شریک ہورہی ہوں ایک پارٹی نہیں بن سکتی اور نہ ایک اتحاد میں شریک ہوسکتی ہے ۔ نتیش کمار اور لالو پرساد 15 سال سے زیادہ عرصہ تک ایک دوسرے کے کٹر حریف تھے یہاں تک کہ بعدازاں لوک سبھا انتخابات میں دونوں پارٹیوں کی شرمناک شکست نے دونوں قائدین کو دوبارہ متحد ہوجانے پر مجبور کردیا ۔