تعمیراتی کام ٹھپ ، ریت کی قلت ، ہزارہا مزدور بے روزگار
حیدرآباد۔25جولائی (سیاست نیوز) پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوںمیںاضافہ کے خلاف جاری لاریوں کی ہڑتال کے سبب نہ صرف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نہ صرف ریکارڈ اضافہ ہے بلکہ شہر میں جاری تعمیری سرگرمیاں بھی مفلوج ہوچکی ہیں اور شہر کے کسی بھی مقام پر ریت دستیاب نہیں ہے۔ شہر میں جاری تعمیری سرگرمیوں کے مفلوج ہونے کے سلسلہ میں کنٹراکٹرس کا کہناہے کہ تعمیری اشیاء کی منتقلی نہ ہونے کے سبب تعمیرات روک دی گئی ہیں اور کئی مقامات پر تعمیر روک دیئے جانے کے سبب مزدور بیروزگار ہیں اور انہیں کام دستیاب نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ عرصہ میں اسٹیل کی قیمتوںمیں ہونے والے اضافہ کے سبب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کے سبب تعمیری کاموں کی قیمت میں اضافہ ریکارڈکیا گیا ہے لیکن اب جبکہ لاری ہڑتال جاری ہے تو بتدریج تعمیری اشیاء بالخصوص ریت‘ کنکر‘ سمنٹ اور اینٹ کا حصول اور تعمیری مقامات تک منتقلی دشوار ہونے کے سبب ان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے اور ریت جو ریاست کے مختلف مقامات سے شہر پہنچتی ہے اب شہر میں ریت کی قلت پیدا ہوچکی ہے اسی طرح اینٹ کی بھی قلت ریکارڈ کی جا نے لگی ہے۔ حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کو سرکاری کنٹرول سے آزاد قرار دیئے جانے کے بعد قیمتوں میں ہورہے بھاری اضافہ اور حکومت کی جانب سے ٹیکس کی وصولی کے سبب لاری مالکین کی جانب سے ہڑتال کا سلسلہ جاری ہے اور لاری سڑک پر نہ ہونے کے سبب تعمیری اشیاء کا حصول مشکل ترین عمل بن چکا ہے۔لاری ہڑتال کے متعلق حکومت کی جانب سے اختیار کردہ رویہ کے باعث نہ صرف تعمیراتی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں بلکہ تعمیرات کے مقامات پر خدمات انجام دینے والے ہزاروں مزدور گذشتہ دو یوم سے بے روزگار ہیں ۔ ٹھیکہ داروں کا کہناہے کہ جب تعمیری اشیاء ہی نہیں ہیں تو تعمیری کام جاری رکھے ہی نہیں جا سکتے اور بیشتر تعمیری مقامات پر صرف 3یا4دن تک کیلئے کافی تعمیری اشیاء موجودہوا کرتے ہیں اور اب لاری ہڑتال کے 5 دن مکمل ہونے کے دوران شہر حیدرآباد میں ریت ‘ کنکریٹ اور اینٹ کی قلت کے سبب کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تعمیری اشیاء کی فروخت میں پیدا ہونے والی رکاوٹ سے صرف تعمیری کام مفلوج نہیں ہوتے بلکہ مزدوروں کے بے روزگار ہونے کے علاوہ حکومت کو ان اشیاء کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بھی نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی جاتی ہے۔